03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈاکٹر کامریض ریفرکرنےپر لیب والوں سے کمیشن لینا
86276جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

عرض یہ ہے کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ اگر میں مریض کو ضرورت کے حساب سے ایکسرے، سونوگرافی، یا خون کا ٹیسٹ کرنے کی صلاح دوں، تو لیبارٹری والے اس کے عوض مجھے کمیشن دیتے ہیں۔ یعنی اگر ٹیسٹ کی کل قیمت 1000 روپے ہو، تو لیبارٹری والے اس 1000 روپے میں سے 100 یا 150 روپے مجھے دیتے ہیں۔اس میں مریض کا کسی قسم کا مالی یا طبی نقصان نقصان نہیں ہوتا، کیونکہ ٹیسٹ کی قیمت مارکیٹ کی دیگر لیبارٹریز کے مطابق ہوتی ہے۔لیبارٹری معیار کے لحاظ سے بھی اچھی ہوتی ہے۔مریض کی بیماری کے مطابق ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے، یعنی غیر ضروری ٹیسٹ تجویز نہیں کیے جاتے۔اگر میں کمیشن نہ لوں، تو بھی لیبارٹری والے ٹیسٹ کی وہی فیس چارج کریں گےجو کمیشن لینے کی صورت میں چارج کرتے ہیں ۔میرا سوال یہ ہے کہ:کیا اس صورت میں لیبارٹری سے مجھے پیسے لینا یا کوئی اور چیز لینا جائز ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ڈاکٹرحضرات لیب والوں سے مریض ریفر کرنے پر (بھیجنے پر) جو کمیشن لیتے ہیں، یہ شرعاً کسی ایسے عمل کے بدلے میں نہیں ہے جس پر عوض لینا جائز ہو۔اسی طرح  ٹیسٹ لکھنا تشخیص ِمرض کے لیے ہوتا ہے،اور مرض کی تشخیص ،دوا کی تجویز  وغیرہ  سب ڈاکٹر کی ذمہ داریاں ہیں، لہٰذا اپنی ذمہ داری پر اضافی پیسہ لینا رشوت وناجائز ہے۔

جہاں تک دیگر اشیاء یعنی تحفہ  وغيره كا تعلق ہے ،تو اگر ان چیزوں  سے لیب والوں کامقصود اپنی تشہیر ہو جیسے لیٹر پیڈ یا کلینڈر وغیرہ جو لیب والے بلا امتیاز سب ڈاکٹروں کو دیتے ہیں ،چاہے وہ اس مخصوص لیب کی طرف لوگوں کو ریفر کرے یا نہ کرے ،تو اس کا لینادیناجائز ہے ،لیکن اگر قیمتی اشیاء دی جائے جس سے مقصود یہ ہو کہ ڈاکٹر ہمارے لیب ہی کی طرف  مریضوں کو ریفر کرے تو اس کا لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (7/ 485):

وفي) نوادر ابن سماعة(عن أبي يوسف: رجل ضل شيئا، فقال: من دلني عليه فله درهم فدله إنسان فلا شيء له؛ لأن الدلالة والإشارة ليست ‌بعمل ‌يستحق ‌به ‌الأجر، ولو قال لإنسان بعينه: إن دللتني عليه فلك درهم، فإن دله من غير شيء معه فكذلك الجواب لا يستحق به الأجر وإن مشى معه ودله فله أجر مثله، لأن هذا عمل يقابل الأجر عرفا وعادة إلا أنه غير مقدر ففسد العقد ووجب به أجر المثل.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي(7/ 254):

‌ثم ‌الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة لا يصير قاضيا. الثاني ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك حرام من الجانبين ثم لا ينفذ قضاؤه في تلك الواقعة التي ارتشى فيها سواء كان بحق أو بباطل. أما في الحق فلأنه واجب عليه فلا يحل أخذ المال عليه. وأما في الباطل فأظهر.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 24):

ولو استأجرها للطبخ والخبز؛ لم يجز ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك؛ لأنها لو أخذت الأجرة لأخذتها على عمل واجب عليها في الفتوى فكان في معنى الرشوة فلا يحل لها الأخذ،

إعلاء السنن (٦٤/١٥):

والحاصل أن حد الرشوة هو ما يؤخذ عما وجب علي الشخص سواء كان واجبا على العين أو على الكفاية وسواء كان وجبا حقا للشرع كما في القاضي وأمثاله ...... أو كان واجباً عقداً كمن آخر نفسه لإقامة أمر من الأمور المتعلقة بالمسلمين فيما لهم، أو عليهم كأعوان القاضي، وأهل الديوان وأمثالهم.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(6/ 305):

وقدمنا عن الأقطع ‌الفرق ‌بين ‌الهدية ‌والرشوة أن الرشوة ما كان معها شرط الإعانة بخلاف الهدية وفي خزانة المفتين مال يعطيه ولا يكون معها شرط والرشوة مال يعطيه بشرط أن يعينه.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

08/رجب /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب