03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چاندی کی انگوٹھی اور ڈیڑھ تولہ سونا  ملکیت میں ہونے پر قربانی کا حکم
87571قربانی کا بیانوجوب قربانی کانصاب

سوال

ایک عورت کے پاس ڈیڑھ تولہ سونا ہے اور تقریبا 800 روپے چاندی کی انگوٹھی ہے اور ساتھ کچھ ضرورت سے زائد برتن بھی ہیں، لیکن نقد پیسے نہیں ہیں، کیا اس عورت پر اس سال قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟ ضرورت سے زائد سامان تقریبا 50 ہزار روپے کا ہے ۔

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں،ضرورت سےزائد اتنا مال موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر قربانی کے تین دنوں(10، 11، 12 ذی الحجہ)  میں سونا،چاندی اور نقدی موجود ہوں تو چونکہ ڈیڑھ تولہ سونا،چاندی  اور نقدی ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ بنتے ہیں ،لہذا قربانی کرنا ضروری ہے، البتہ  اگر عید کے دنوں میں نقدی اور چاندی بالکل نہ رہے تو پھر سونے کا نصاب معتبر ہوگا اور ڈیڑھ تولہ سونا چونکہ سونے کے نصاب سے کم ہے، لہذا ایسی صورت میں قربانی واجب نہیں ہوگی ۔(ماخوذ اذ تبویب:80914)

حوالہ جات

الفتاوى الهندية : (1/ 191)

وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان"

الفتاوى الهندية : (42/ 225)

(وأما) (شرائط الوجوب): منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 312):

وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية۔۔۔۔(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا

             ارسلان نصیر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

  22 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب