03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا خلع کی کاروائی کے دوران شوہر کی وفات ہوجانے سے عدت لازم ہوگی؟
86399طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

تین ماہ پہلے میری بہن  کو اس  کی ساس نے گھر بھیج دیا۔پھر حالات  بھی صحیح نہیں رہے،معاملہ خلع تک پہنچ گیا۔پھر کورٹ کے ذریعے پیپرز بھیج دیے گئے ۔دو بار ہی پیپرز پہنچے تھے کہ بہنوئی کی وفات ہوگئی۔کیا میری بہن کو عدت میں بیٹھنا ضروری ہے؟مجھے میری بہن نے کہا کہ بہنوئی کی شکل بھی نہیں دیکھی ،وہ امی کے  گھر ہی تھی،کیا پھر بھی عدت میں بیٹھناپڑے گا؟

 تنقیح:سائل کی طرف سے تنقیح کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ابھی  خلع نہیں لیا تھا ۔ابھی دوسری پیشی تھی کہ شوہر کی وفات ہوگئی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ خلع  کی کاروائی مکمل نہیں ہوئی تھی  تو  شوہر کی وفات کے وقت نکاح قائم تھا۔لہذا شوہر کی وفات ہونے کی وجہ سے  آپ کی بہن پر عدت وفات لازم ہوگی  جو  چار ماہ دس دن ہے۔نیز وہ مہر کی مستحق بھی ہیں اور شوہر کی جائیداد  سے ان کواپنا شرعی  حصہ بھی ملے گا۔

حوالہ جات

ﵟوَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنكُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٰجٗا يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَعَشۡرٗاۖ فَإِذَا بَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا فَعَلۡنَ فِيٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ 234 ﵞ [البقرة: 234] 

أخرج الإمام مسلم في "صحيحه"(2/1125)(الحديث رقم:1486)من حديث زينب بنت أم سلمة قالت: توفي حميم لأم حبيبة. فدعت بصفرة فمسحته بذراعيها. وقالت: إنما أصنع هذا، لأني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:"لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، أن تحد فوق ثلاث، إلا على زوج، أربعة أشهر وعشرا".(و) العدة (للموت أربعة أشهر) بالأهلة لو في الغرة كما مر (وعشر) من الأيام بشرط بقاء النكاح صحيحا إلى الموت (مطلقا) (الدرالمختار مع رد المحتار:3/ 510)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

14/رجب المرجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب