03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کی کم تعلیم  کی وجہ سےنکاح  کو ختم کرنا
86398نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میری عمر 31 سال ہے۔ میں گورنمنٹ جاب کرتا ہوں۔ میں نے ماسٹر کیا ہوا ہے، نوکری کے بعد شادی کے لیے میرے گھر والے رشتہ ڈھونڈ رہے تھے ۔میں نے کہا لڑکی پڑھی لکھی ہونی چاہیے،کیونکہ میں  نےخود بہت مشکل سے تعلیم حاصل کی ہے۔  نوکری حاصلِ کرنے کے لیے بہت محنت کی تھی۔ بہت سے رشتہ دیکھنے کے بعد جب گھر والوں نے لڑکی پسند کی تو مجھے اسکی فوٹو دکھائی جو مجھے پسند نہیں آئی، میں نے گھر والوں کو منع کر دیا۔ لیکن اس کے بعد گھر والوں نے مجھے پریشر دیا اور گھر واپس نہ آنا کی دھمکی دی۔ میں اس بات پر خاموش ہو گیا، آخر شادی ہو گئی ۔ جب میں نے پہلی رات لڑکی سے تعلیم پوچھی تو اس نے  بتایا کہ وہ بارہ جماعت پڑھی ہوئی ہے۔ اس کی عمر بھی 30 سال ہے۔ مجھے یہ سن کر دھچکا لگا کہ میرے ساتھ گھر والوں نے  یہ کیا کیا۔اب میری شادی کو تین ماہ ہو گئےہیں، لیکن مجھے لڑکی سمجھ نہیں آ رہی اور نہ ہی میں اس کے ساتھ چل سکتا ہوں، مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیا کروں۔ برائے مہربانی میری رہنمائی کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت مطہرہ نے دونوں خاندانوں کو نکاح کرنے سے پہلے یہ تعلیم دی ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی رضامندی کی رعایت رکھیں۔نیز ہر اس بات کی تسلی کرلیں جس کے ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے کسی فتنہ،لڑائی جھگڑے یا تعلقات اچھے نہ رہنے کا خطرہ ہو۔لہذا جب گھر والوں کو معلوم ہوچکا تھا کہ لڑکا اس رشتے پر راضی نہیں ہے تو ان کو یہاں رشتہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔تاہم چونکہ اب نکاح ہوچکا ہے اور شریعت نےطلاق کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔نیز آپ کی اہلیہ اَن پڑھ نہیں ہیں۔مناسب تعلیم کی حامل ہیں۔اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ ہونا کوئی عیب نہیں۔بلکہ گھر چلانے کے لیے بعض دفعہ اوسط تعلیم یافتہ بیوی زیادہ بہتر ثابت ہوتی ہے۔لہذا اب آپ کو چاہیے کہ  اس نکاح کو برقرار رکھیں ۔محض تعلیم وغیرہ    کی کمی کی وجہ سے اس تعلق کو ختم نہ کریں اور  ایسےمنفی خیالات کی طرف توجہ نہ کریں  جن سے طلاق کا رجحان پیدا ہو۔

حوالہ جات

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ ﵞ [المائدة: 1] 
    ﵟوَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِن كَرِهۡتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـٔٗا وَيَجۡعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيۡرٗا كَثِيرٗا 19ﵞ [النساء: 19] 
    ﵟوَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـٔٗا وَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّواْ شَيۡـٔٗا وَهُوَ شَرّٞ لَّكُمۡۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ 216ﵞ [البقرة: 216] 
    أخرج الإمام أبو داؤد في "سننه"(3/ 505 )(الحديث رقم:2178) من حديث ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ‌أبغض ‌الحلال إلى الله عز وجل الطلاق.
    والتحصين ‌المطلوب بالنكاح لا يحصل إلا بالرغبة في المنكوحة. (مرقاة المفاتيح:5/ 2053)
    (‌ولا ‌تجبر ‌البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ... (قوله ‌ولا ‌تجبر ‌البالغة) ولا الحر البالغ والمكاتب والمكاتبة.

(الدر المختار مع رد المحتار:3/ 58)
 

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

14/رجب المرجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب