| 86408 | حج کے احکام ومسائل | احرام اور اس کے ممنوعات کا بیان |
سوال
میں نے عمرہ ادا کیا اور وہاں سے نکل کے جدہ چلا گیا ،سوچا تھا کہ جدہ میں بال کٹوا لوں گا ۔مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ بال حرم کی حدود میں کاٹنا ضروری ہوتا ہے ۔اس کا کیا حکم ہے؟ دم دینا ہو گا یا عمرہ کی ادائیگی دوبارہ کرنی ہو گی؟ جبکہ یہ عمل مجھ سے غلطی سے سرزد ہوا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عمرہ کرنے والے پر لازم ہے کہ احرام کھولنے کے لئے حدود حرم میں حلق کروائے ۔ سائل پر حدود حرم سے باہر حلق کروانے پر ایک دَم واجب ہوا، اسی طرح حلق کروانے سے پہلےلا علمی میں احرام کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے مزید دَم لازم ہو گا ۔
مندرجہ ذیل امور کا ارتکاب احرام کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔
خوشبو استعمال کرنا،مرد کو سلا ہوا کپڑا پہننا،مرد کو سر اور چہرہ ڈھانکنا اور عورت کو صرف چہرہ ڈھانکنا،بدن کے کسی بھی حصے سے بال مونڈنا،ناخن کاٹنا،میاں بیوی والا خاص تعلق،واجباتِ حج میں سے کسی واجب کو چھوڑ دینا،خشکی کا جانور شکار کرنا،حرم کے درخت کاٹنا،زیتون یا تل کا تیل یا کوئی بھی خوشبو دار تیل استعمال کرنا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (2/ 553-554):
واعلم أن المحرم إذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد فإنه لا يخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرما، ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب ولو كل المحظورات، وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض، ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لا يخرج منه بهذا القصد فإنها لا تعتبر منه۔۔۔۔
الدر المختار:(أو حلق في حل بحج) في أيام النحر، فلو بعدها فدمان (أو عمرة) لاختصاص الحلق بالحرم۔
ردالمحتار:(قوله أو حلق في حل بحج أو عمرة) أي يجب دم لو حلق للحج أو العمرة في الحل لتوقته بالمكان۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
14/رجب /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


