| 87615 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرے بھائی کا نام توقیر احمد اور بھابھی کا نام فریال توقیر ہے۔ اس کے دو بچے ہیں جبکہ بیوی ابھی حاملہ ہے۔ وہ ایک ایسے ذہنی و نفسیاتی دباؤ، غصے اور بے قابو کیفیت میں مبتلا تھا کہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہہ دیے، حالانکہ اس وقت بقول میرے بھائی کے طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ اسے اندازہ تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس کی کیفیت اور حالات درج ذیل تھے:
میرا بھائی طویل عرصے سے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہے، اس کی شخصیت پر بچپن سے ہی ہمارے والد کی سختی اور پرتشدد رویے نے گہرا اثر ڈالا ہے جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری اور شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا رہتا ہے ان دنوں والدہ اور بھابھی کے تنازعات اور بہت زیادہ قرضدار ہونے کی وجہ سے بھی شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا رہتا ہے اور اسے شدید وسوسے بے چینی اور غصے کے غیر معمولی دورے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے خود پر قابو کھو دیتا ہے۔ ماضی میں کئی بار اس نے اپنے کئی موبائل فون اور ایک کمپیوٹر توڑ ڈالا ، دو بارہ اپنی بیوی پر اس حد تک تشدّد کیا کہ اسے دیوار اور زمین پر پٹخااور بعد میں افسوس کیا، اپنی چوٹی بہن کو جان سے مارنے کی کوشش میں اس کا گلا دبایا جسے پھر ہسپتال لے جانا پڑا ،ایک بار چھرا نکال کر گلیوں میں میرے پیچھے بھاگتا رہا ،ایک بار فیملی کے ساتھ گاڑی چلاتے ہوئے غصے میں موٹرسائیکل سواروں کو گاڑی سے ٹکر مار کر مین ہائی وے پر گرا دیا اور ایک بار شدید غصے میں اپنے دوست پر گاڑی چڑھانے کی نیت سے فٹ پاتھ پر چڑھا ڈالی۔ اس کے علاوہ بھی وہ غصے میں بہت ایسے کام کیے جو اس کے اور دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بنے۔
رمضان المبارک کے دوران 18 مارچ 2025 کو ایک واقعہ پیش آیا، وہ روزے کی حالت میں تھا، جب وہ گھر آیا تو محلے کی ایک خاتون نے ہمارے والد کی وجہ سے اسے ڈانٹ دیا جیسے کے میں پہلے بتا چکا ہوں کہ والد کے پُرتشدّد رویے کے باعث وہ ان سے صرف ضرورت کی بات کرتا ہے۔ اس دن حالت روزہ میں اس عورت کی وہ باتیں اسے انتہائی ناگوار گزریں ،وہ پہلے سے کسی ذہنی دباؤ میں تھا اور غصے سے اس کی طبیعت بگڑنا شروع ہو گئی، اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا اور غصے میں ہمیشہ یہی کیفیت ہوتی ہے، وہ شدید غصے کی حالت میں گھر سے باہر نکل گیا، اس کے پیچھے وہ خاتون اور والدہ بھی آئی کہ کہیں کچھ کر نہ لے اور اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی لیکن غصہ اتنا شدید تھا کہ اس نے باہر گلی میں ہی امی اور اس خاتون سے اونچی آواز میں لڑنا شروع کر دیا۔ جس کے بعد وہ گھر کی طرف دوڑا اور گھر میں داخل ہوا، اسی طیش اور بے قابو کیفیت میں جب وہ گھر میں داخل ہوا تو میری بھابی اس وقت سیڑھی کے ذریعے چھت سے اتر رہی تھی جسے اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اور نفع نقصان کے پشتو زبان میں شدید غصے کے عالم میں کہا کہ:
"زہ تالہ دغہ و خت کی طلاق راکوم "
"کہ میں تمھیں اسی وقت طلاق دیتا ہوں" (ایسا تین بار کہا)۔
بقول میرے بھائی کے یہ الفاظ اس کے منہ سے کیسے نکلے؟ اسے نہیں معلوم کہ اس نے یہ الفاظ کیوں کہے اور کیسے کہے، وہ مکمل طور پر خود پر کنٹرول کھو چکا تھا۔ بقول میرے بھائی کے اس کا اس وقت طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ شدید غصے اور غیر مستحکم کیفیت میں تھا وہ اس وقت اتنے شدید غصے میں تھا کہ اسے نفع و نقصان کا اندازہ نہیں تھا۔ اس وقت اسے اپنے قول و فعل پر بالکل بھی اختیار نہیں تھا۔ اور نہ ہی بیک وقت تین طلاقیں دینے کے انجام اور شرعی احکام کا علم تھا۔ اس کا اپنی بیوی سے گھر پہنچنے پر نہ کوئی جھگڑا ہوا تھا اور نہ ہی کوئی بات چیت، بلکہ انکا سامنا بھی نہیں ہوا تھا کیونکہ جب وہ گھر آیا تو میری بھابی اس وقت چھت پر تھی۔
ابھی یہ واقعہ پیش آئے کوئی پونہ گھنٹہ گزرا تھا کہ ہمارا ایک رشتہ دار واجد آیا ، جس کے ساتھ ہمارے برادری کے مسائل چل رہے ہیں ، یعنی وہ ہماری خوشی بہر صورت برداشت نہیں کر سکتا ، اس نے میرے بھائی سے پوچھا کہ آپ نے طلاق ہوش و حواس میں دی ہے ؟ بقول میرے بھائی کے کہ اس نے غصے کی حالت میں اور اس رشتہ دار یعنی واجد نامی آدمی کی خوشی پر پانی پھیرنے کیلئے کہہ دیا کہ "جی ، میں نے طلاق ہوش و حواس" میں دی ہے ۔ اس کو یہ جواب بھی غصے کی حالت میں اور ضد کی بنا پر دیا، یعنی ہوش و حواس میں طلاق دینے کا جھوٹا اقرار کیا، حالانکہ طلاق ہوش و حواس میں نہیں دی تھی۔
۱)کیا غصے کی مذکورہ کیفیت میں طلاق واقع ہوگئی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق عام طور پر غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے اور عام غصے کی حالت میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے، شریعت نے طلاق کے صریح الفاظ استعمال ہونے کے بعد ان میں نیت کا کوئی اعتبار نہیں کیا۔
صورت مسئولہ میں اگر شوہر کا غصہ ایسا تھا کہ غصہ کے باوجود اس کو یاد ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہے تھے اور یہ الفاظ کہتے وقت وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ ان الفاظ سے طلاق ہو جاتی ہے ، اپنے اختیار و ارادے سے الفاظ ادا کیے تھے ،تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔
تاہم اگر غصہ یا ذہنی دباؤ کا اس قدر غلبہ ہو جائے کہ دماغ ماؤف ہو جائے اور طلاق دینے والے کو اپنے کہے ہوئے الفاظ کی خبر نہ رہے ، طلاق کے الفاظ کہتے وقت غصے کی وجہ سے اس درجہ حواس باختہ ہوچکا ہو کہ اس کو یہ تمیز نہ رہے کہ اس کے منہ سے کیا الفاظ نکل رہے ہیں ؟ یا جو الفاظ نکل رہے ہیں ان کا کیا معنی و مطلب ہے ؟ تو پھر اگر شوہر کی یہ جنونی کیفیت پہلے سے لوگوں میں معروف ہو اور وہ حلفیہ بیان بھی دے کہ طلاق کے الفاظ کہتے وقت اس پر یہ جنونی کیفیت طاری تھی ، تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔
یا پھر موقع پر موجود لوگوں میں سے کم از کم دو معتبر آدمی بوقت طلاق اس کی کیفیت و حرکات کودیکھتے ہوئے مغلوب الحواس ہونے کی گواہی دیں کہ شوہر کا غصہ واقعتاً اس قدر شدید تھا کہ اس کی عقل مغلوب ہوگئی تھی، خود پر کنٹرول ختم ہوگیا تھا ، حواس باختہ ہوچکا تھا اور زبان پر مکمل کنٹرول ختم ہونے کی حالت میں طلاق کے الفاظ کہے تھے، تواس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
لیکن اگر غصے کے وقت اس کی یہ کیفیت لوگوں میں معروف نہ ہو اور نہ اس کے پاس اس پر گواہ موجود ہوں، تو پھر ایسی حالت میں دی گئی طلاقیں واقع ہوں گی۔
حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار3/ 641):
قال العلامة الحصكفي رحمه الله : (ويقع طلاق) ... (ولو عبدا)... (أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق، فجرى على لسانه الطلاق، أو تلفظ به غير عالم بمعناه أو غافلا أو ساهيا.
رد المحتار(3/ 244):
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ ،وهذا الموافق عندنا؛ لما مر في المدهوش... وصرح في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول ، وسعه الأخذ بشهادتهما، وإلا لا ، مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول ، يقع طلاقه .. ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين.
رد المحتار(3/ 244):
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : ينبغي التعويل عليه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته.. وقال : سئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق .
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
26 /ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


