03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“نظر اونٹ کو ہانڈی تک لے جاتی ہے”کہنا ،نیز نظرِ بد کی حقیقت اور فلسفہ قربانی
87600حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

 کچھ دن پہلے کی بات ہے، مختلف مذاہب کے لوگوں کی سوشل میڈیا پر میٹنگ کے دوران ایک مسلمان نے کہا: "نظر اونٹ کو ہانڈی تک لے جاتی ہے"۔یہ سن کر ایک عیسائی نے طنزیہ انداز میں کہا: "وہ تو قربانی بھی اونٹ کو ہانڈی تک لے جاتی ہے"۔

یہ طنزیہ کلام سن کر مجھے غصہ آیا، مگر میرے پاس اس کی اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ براہِ کرم ، ان دونوں باتوں کے متعلق میری رہنمائی فرمائیں، اور آئیندہ اگر ایسی صورتِ حال پیش ہو تو میں ان کو کیا جواب دوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسلمان کا قول"نذر اونٹ کو ہانڈی تک لے جاتی ہے":

واضح رہے کہ جمہور علماء کرام اور اہل حق کا مسلک یہی ہے کہ جاندار اشیاء خواہ انسان ہو یا جانور اور اموال وغیرہ میں نظر کی تاثیر یعنی نظر سے نقصان پہنچنا ثابت ہے اور یہ بہت ساری احادیث سے بھی ثابت ہے، حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ”نظر حق“ ہے، یعنی نظر کی تاثیر اور اس سے نقصان پہنچنا ثابت ہے،اسی طرح سوال میں مذکور قول بھی   حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت  کا حصہ ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "نظر اتنی مؤثر ہوتی ہے کہ (اچھے بھلے) آدمی کو قبر میں اتار دیتی ہے اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے۔ اور بھی متعدد روایات ایسی ہیں جن میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے نظر لگنے او راس سے بچنے کے لیے عرب میں جو طریقہ رائج تھا ، بیان کیا ہے کہ جس شخص کی نظر لگتی تھی اس کے ہاتھ، پاؤں، ٹخنے، کہنیاں وغیرہ دھلوا کر وہ پانی اس شخص پر ڈالتے تھے جس کو نظر لگی ہوتی تھی اور اس کو وہ لوگ شفاء کا ذریعہ سمجھتے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی اور نظر سے بچنے کے لیے تعویذ اور دم کرنے کا بھی حکم دیا ہے، چناں چہ نظر کی تاثیر اورسببیت اس بناء پر ہے کہ الله تبارک وتعالیٰ نے اس میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ نقصان یا ہلاکت کا باعث بنے ۔

 نظرِ بد  پیرا سائیکالوجسٹ کی نظر:

بیماری کے اسباب جس طرح مادی ہوتے ہیں اسی طرح غیر مادی بھی ہوتے ہیں۔ جس طرح جدید تحقیقات کے نتیجے میں امراض کے نفسیاتی اسباب کے مسلمہ حقیقت ہے، اسی طرح سے مادی امراض کا لگنا بھی ایک حقیقت ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر انسان کی آنکھ سے غیر مرئی لہریں نکلتی ہیں ، جن میں ایموشنل انرجی (Emotional energy) کی بجلی بھری ہوئی ہوتی ہے۔ یہ بجلی جلدی مسامات کے ذریعے جسم میں جذب ہو کر جسم کی تعمیر یا تنزلی کا باعث بنتی ہے۔ اگر ایموشنل انرجی کی بجلی یا لہریں مثبت ہوں تو اس سے انسان کو نفع پہنچتا ہے اور اگر یہ لہریں منفی ہوں تو مسلسل نقصان ہوتا ہے۔اب بد نظر شخص کی آنکھ سے نکلنے والی لہریں دراصل منفی ہوتی ہیں اور ان کے اندر اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ جسم کے نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔

عیسائی کا طنزیہ قول "وہ تو قربانی بھی اونٹ کو ہانڈی تک لے جاتی ہے":

یہ جملہ طنز کے طور پر کہا گیا تاکہ قربانی کے مقصد کو محض کھانے تک محدود کر دیا جائے، جبکہ شریعت کی نظر میں قربانی کا مقصد صرف گوشت کا حصول نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک عبادت ہے جس کا مقصد تقویٰ، ایثار، اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ"

(سورۃ الحج: 37)

ترجمہ: "اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔"

موجودہ دور میں قربانی کو منظم انداز میں انجام دینے کے رجحان نے اسے رفاہِ عامہ کے ایک مؤثر ذریعہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ کئی ادارے اور فلاحی تنظیمیں قربانی کا گوشت یتیم خانوں، ہسپتالوں، مدارس اور دور دراز علاقوں کے نادار افراد تک پہنچاتے ہیں۔ اس سے وہ طبقات بھی جو گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، قربانی کے ایام میں بہترین خوراک سے مستفید ہوتے ہیں۔ یوں قربانی ایک عبادت کے ساتھ ساتھ فلاحی خدمت کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔

 اسی طرح اگر قربانی کی رسم کو خالصتاً معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عید قربان کا عمل معیشت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ سب سے پہلے، اس موقع پر ملک میں فارمنگ اور کیٹل انڈسٹری کو زبردست فروغ ملتا ہے۔ جانور پالنے والے کسان، خصوصاً دیہاتی اور غریب طبقہ، سال بھر کی محنت کے بعد ان جانوروں کو فروخت کر کے ایک معقول آمدنی حاصل کرتا ہے، جو عام دنوں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یوں یہ رسم دولت کی منصفانہ تقسیم میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور دیہی معیشت کو سہارا دیتی ہے۔ پھر قربانی کے جانوروں سے حاصل شدہ کھالیں لیدر انڈسٹری کی بنیاد بنتی ہیں، جہاں لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ جوتے، بیلٹس، بیگز اور دیگر چمڑے کی مصنوعات تیار کرکے ملکی و بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کی جاتی ہیں، جو معیشت میں مزید بہتری کا باعث بنتی ہے۔اس پورے نظام میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی بھرپور انداز میں شریک ہوتا ہے۔ جانوروں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی، شہری علاقوں میں فراہمی، اور قربانی کے بعد گوشت کی تقسیم، ان تمام مراحل میں نقل و حمل سے منسلک افراد کو بھرپور روزگار ملتا ہے۔ الغرض عید قربان کے یہ چند دن ملکی معیشت کو اربوں روپے کی گردش مہیا کرتے ہیں، جو عام طور پر بے کار بچت (saving) کی صورت میں جمود کا شکار ہوتی ہے۔ یہ رسم ان رقوم کو متحرک کرکے معاشی پہیے کو تیز کرتی ہے اور ملکی معیشت میں نئی روح پھونکتی ہے۔

لہٰذا اگر آپ کو دوبارہ ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو نرمی اور حکمت کے ساتھ آپ ان کو قربانی کا یہ فلسفہ سمجھائیں کہ قربانی صرف گوشت کا حصول یا اس کے  کھانے کا عمل نہیں، بلکہ یہ ایک دینی فریضہ کے ساتھ ساتھ رفاہِ عامہ کا ایک مؤثر ذریعہ اور معیشت کو متحرک بنانے کا ایک اہم سبب بھی ہے۔

حوالہ جات

https://www.faros-spirit.com/psychic-attacks-energy-shielding-protect-your-energy/?utm_source

A psychic attack occurs when negative energy is directed toward you, consciously or unconsciously, by another person, an entity, or even your own unresolved fears and doubts. These attacks can weaken your energy field leading to exhaustion, confusion, and emotional turmoil.

حلية الأولياء وطبقات الأصفياء (90/07):

- حديث جابر بن عبد الله رضي الله عنهما

حدثنا عبد الله بن محمد بن جعفر ثنا احمد بن يحيى بن زهير ثنا شعيب بن ايوب ثنا معاوية بن هشام عن سفيان الثوري عن محمد بن المنكدر عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم العين تدخل الرجل القبر والجمل القدر".

مشكاة المصابيح (2/ 1280):

وعن عائشة قالت: أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن نسترقي من العين.

القرآن الکریم (37/22):

لن ينال الله لحومها ولا دماؤها ولكن يناله التقوى منكم.

القرآن الکریم (28/22):

فكلوا منها واطعموا البائس الفقير.

حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

22/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب