03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مذی کا حکم
87173پاکی کے مسائلوضوء کے نواقض یعنی وضوتوڑنے والی چیزوں کا بیان

سوال

بیوی سے مباشرت کے دوران کبھی کبھی بیوی کی شرمگاہ سے پانی جیسے مائع کا اخراج ہوتا ہے، حالانکہ کے پیشاب کی حاجت نہیں ہوتی اورمثانہ بھی خالی ہوتا ہے ، اس سے بچنا مشکل ہے اور یہ خاوند کے بدن سے بھی لگ جاتا ہے، کیا اس مائع کا حکم پیشاب جیسا ہے ؟ اور اس سے بچنا چاہیئے ؟ جب کے اس کا اخراج اچانک اور غیر ارادی ہوتا ہے اور بچنا مشکل ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میاں بیوی کے باہمی بوس و کنار کے دوران عورت کی شرم گاہ سے خارج ہونے والا پانی عام طور پر مذی ہوتا ہے۔ مذی کا حکم پیشاب کی طرح ہے، یعنی اس کے خروج سے غسل فرض نہیں ہوتا، لیکن وضو ٹوٹ جاتا ہے۔اگر مذی کپڑے یا جسم پر لگ جائے تو وہ ناپاک ہو جائے گا، اور اسے دھونا ضروری ہوگا۔

حوالہ جات

) بذل المجھود:2/265(

قال العلامۃ السہارنفوری رحمہ اللہ :واتفقت العلماء على أن الغسل لا يجب لخروج المذي، وعلى أن المذي نجس, وعلى أن الأمر بالوضوء منه كالأمر بالوضوء من البول.

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

15/رمضان 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب