03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فروخت شدہ جائیداد میں میراث کاحکم
87360میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بار ےمیں مسمی عرفان الہی ولد صوفی صفت الہی نے اپنے والد بزرگوار سے ایک عدد دکان محیط بر قبہ 255 فٹ واقع قصہ خوانی بازار پشاور شہر سے خریدی، جو  ایک لاکھ پچاس ہزار روپے سکہ رائج الوقت پاکستانی کے عوض خریدی (150000 ) اور میں ( عرفان)  اس دکان کا بلا شرکت غیرے مالک بن گیا، اور یوں تنہا اُس دکان کا وارث ہوا ۔

اس کے بعد والد صاحب نے ایک بات مجھ سے فرمائی  کہ میری چار بیٹیاں ہیں اور میں  ایک بیٹی کو اپنی طرف سے پانچ پانچ لاکھ روپے پاکستانی اپنی حیات میں دو ں گا اور اگر میں یہ رقم اپنی زندگی میں نہ دے  سکا تو بیٹا عرفان تم میری طرف سے ہر  ایک بیٹی کو پانچ پانچ لاکھ روپے ادا کرنا ۔ میں نے اپنے والد کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ آپکی وصیت پرعمل کرونگا ۔ میرے والد  محترم  2012کو اس دار فانی سے کوچ فرما گئے ،بندہ نے  والد کی وصیت کو  دو یا تین سال کے بعد  پورا کرنا چاہا تو  تمام بہنوں نے اس پانچ لاکھ روپے کی وصولی سے انکار کیا  اور مجھ سے زائد کا مطالبہ کیا ، یعنی ان پانچ لاکھ سے زائد کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ بندہ آنجناب کی خدمت میں ملتمس ہے کہ  یہ فتوی عنایت فرمائیں کہ میری بہنوں کا مجھ سے پانچ لاکھ روپے  سے زائد کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں؟

)تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر  معلوم ہوا کہ یہ دکان سائل کے والد نے اپنی زندگی میں ہی سائل  کو فروخت کر کے  سائل کے قبضے میں بھی دے دی  تھی ،  جس کے گواہان بھی موجود ہیں   ،دکان کا کرایہ بھی سائل خود وصول کرتا تھا،اسی طرح  قانونی کاروائی  (رجسٹری) بھی کروا دی تھی ۔ جہاں تک پانچ لاکھ روپے ہر بہن کو ادا کرنے کی بات ہے، اس کا دکان سے کوئی تعلق نہیں ، نہ دکان کی خرید وفروخت  کے دوران ایسی کوئی شرط لگائی گئی ، یہ دکان کے معاملے سے   بعد کی بات ہے کہ والد صاحب نے سائل کو کہا کہ وہ(سائل کے والد) یہ رقم اپنی بیٹیوں کو  دیں گے لیکن اگر نہ ادا کر سکے تو آپ  اپنی طرف سے تمام بہنوں کو    یہ رقم ادا کرد ینا  اور سائل نے بھی یہ رقم ادا کرنے کی ہامی بھری تھی ۔)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ   سائل کا بیان  اگر حقیقت واقعہ کے مطابق ہو توسائل کے  والد نے جو دکان اپنے بیٹے کو فروخت کر کے قبضے میں بھی دے دی تھی، ان کا یہ تصرف نافذ ہوچکا ہےاور یہ دکان اب ان کے بیٹے (عرفان الہی ) کی ملکیت ہے۔ مزید یہ کہ سائل نے اپنے والد سے جو وعدہ کیا  تھا کہ وہ ہر بہن کو پانچ لاکھ روپے ادا کرے گا، تو سائل کو چاہیے کہ اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوے مذکورہ رقم ہر بہن کو ادا کر دے، تاہم بہنیں  اس رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتی  ، کیونکہ والد کی طرف سے ان کے لئے یہ ایک وصیت تھی ،اور وارث کے حق میں وصیت نافذ نہیں ہوتی۔

لہذا اگر والد صاحب کی مذکورہ دکان کے علاوہ کوئی جائیداد نہیں تھی ، تو بہنوں کو وراثت کے دعوی کا بھی حق نہیں کیونکہ دکان والد صاحب نے فروخت کر دی تھی اور ان کی میراث میں کچھ نہیں بچا تھا  اور  اگر  کچھ بچا ہے تو صرف اسی میں بہنیں اپنے حصے کے مطابق  دعوی کر سکتی ہیں۔

حوالہ جات

 مسند أحمد (19/ 376 ط الرسالة):

 عن أنس بن مالك قال: ما خطبنا نبي الله صلى الله عليه وسلم إلا قال:  لا إيمان لمن لا أمانة له، ‌ولا ‌دين ‌   لمن ‌لا ‌عهد له۔

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (3/ 3):

وأما ‌حكمه ‌فثبوت ‌الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 263):

وأما بيان حكم الملك والحق الثابت في المحل فنقول وبالله التوفيق حكم الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه وإن كان يتضرر به إلا إذا تعلق به حق الغير فيمنع عن التصرف من غير رضا صاحب الحق وغير المالك لا يكون له التصرف في ملكه من غير إذنه ورضاه إلا لضرورة وكذلك حكم الحق الثابت في المحل عرف هذا فنقول للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء۔

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

02/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب