| 87377 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
موبائل میں شطرنج گیم کھیلنے کا حکم؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت مطہرہ نےایسےکھیلوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جن سے جسمانی فائدہ ہوتاہو،جیسے تیراکی،تیراندازی اور گھڑسواری وغیرہ اور ان کھیلوں کی حوصلہ شکنی کی ہے جن میں لگنے سے وقت کا ضیاع ہوتا ہو اور ایسے کھیلوں کو ناجائز قرار دیا ہے جن کی وجہ سے گناہوں کا ارتکاب لازم آتا ہو یا وہ کھیل فساق و فجار کے کھیل ہوں۔
لہذا موبائل میں شطرنج گیم کھیلنے میں اگر خلافِ شرع امور کا ارتکاب ہو ، حقوق اللہ (نماز و غیرہ) اور حقوق العباد میں کوتاہی ہو، فرائض و واجبات کا ترک لازم آتا ہواور گناہ کا ارتکاب (مثلاً شرط لگا کر کھیلنا یا جوا لگانا ) ہو تو یہ بالکل ناجائز ہے،
اور اگرتفریحِ طبع کے لئے ہو تو بھی شطرنج کھیلنا حدیث میں ممانعت آنےکی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے اور یہ وقت کا ضیاع بھی ہے جو کہ جائز نہیں ہے،نیز اس طرح کے کھیلوں میں عموماً انہماک اس درجہ کا ہوتا ہے کہ نماز و دیگر امور میں غفلت ہوجاتی ہے، اور اس بے مقصد کھیل میں قیمتی وقت کا ضیاع ہوتا ہی ہے، نیزلایعنی امور میں ایسا انہماک ہونا جن میں دینی و دنیوی یا کم از کم دنیوی فائدہ نہ ہوشرعاً ناپسندیدہ ہے،لہذا ایسے بے مقصد اور لایعنی کھیلوں سے بہرصورت اجتناب کرناچاہئے۔
The Shariah Mutrah has encouraged the players that have physical benefits, such as swimming, arrogance and clocks, etc., and discouraging sports in which the time is wasted and the sports are invalidated, which causes the game to commit sin or the game.
Therefore, if there is a violation of the law in playing chess games in mobile, the rights of Allah (prayer and non -prayer) and the rights of the rights, the abandonment of duties and obligations is mandatory and committing sin (for example, playing or gambling) is absolutely invalid.
And even if it is for recreation, playing chess is makrooh due to the prohibition of the hadeeth, and it is also a waste of time which is not permissible, and in such sports, it is usually the status of the person who is neglected in prayer and other matters, and this is a short time of time, and in such a sense, it is short -lived. The worldly benefit is not unwanted, so it should be avoided with such aimless and meaningless sports.
حوالہ جات
«شرح مختصر الطحاوي» للجصاص (8/ 544):
«مسألة: [كراهية اللعب بالشطرنج، والنرد]
قال: (ويكره اللعب بالشطرنج، والنرد، وكل اللهو).وذلك لقول الله تعالى: {ومن الناس من يشترى لهو الحديث}.فذم عليه، وأوعد عليه بالعقاب،وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لست من دد، ولا الدد مني".وقد روي في النهي عن اللعب بالشطرنج عن النبي عليه الصلاة والسلام أحاديث.وروي "أن عليا رضي الله عنه مر بقوم يلعبون بالشطرنج، فقال: {هذه التماثيل التي أنتم لها عاكفون}؟! ".وهذا يدل على كراهة شديدة لذلك.»
«سورة المؤمنون» آیات ۳:
وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ.
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (4/ 380):
«قال: "ويكره اللعب بالشطرنج والنرد والأربعة عشر وكل لهو"؛ لأنه إن قامر بها فالميسر حرام بالنص وهو اسم لكل قمار، وإن لم يقامر فهو عبث ولهو. وقال عليه الصلاة والسلام: "لهو المؤمن باطل إلا الثلاث: تأديبه لفرسه، ومناضلته عن قوسه، وملاعبته مع أهله" وقال بعض الناس: يباح اللعب بالشطرنج لما فيه من تشحيذ الخواطر وتذكية الأفهام، وهو محكي عن الشافعي رحمه الله. لنا قوله عليه الصلاة والسلام: "من لعب بالشطرنج والنردشير فكأنما غمس يده في دم الخنزير" ولأنه نوع لعب يصد عن ذكر الله وعن الجمع والجماعات فيكون حراما لقوله عليه الصلاة والسلام: "ما ألهاك عن ذكر الله فهو ميسر" ثم إن قامر به تسقط عدالته، وإن لم يقامر لا تسقط؛ لأنه متأول فيه. وكره أبو يوسف ومحمد التسليم عليهم تحذيرا لهم، ولم ير أبو حنيفة رحمه الله به بأسا ليشغلهم عما هم فيه.»
تکملة فتح الملهم، قبیل کتاب الرؤیا، (4/435)
"فالضابط في هذا ... أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش ولا المعاد حرام أو مكروه تحريمًا،... وما كان فيه غرض ومصلحة دينية أو دنيوية فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة ... كان حرامًا أو مكروهًا تحريمًا، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس فهو بالنظر الفقهي على نوعين: الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه و مفاسده أغلب على منافعه، و أنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده وعن الصلاة والمساجد التحق ذلك بالمنهي عنه؛ لاشتراك العلة فكان حرامًا أو مكروهًا، والثاني ماليس كذلك، فهو أيضًا إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، و إن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه ... وعلى هذا الأصل، فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل على معصية أخرى، وما لم يود الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه.
کھیل اور تفریح کی شرعی حدود ، از حضرت مولانا محمود اشرف عثمانی رحمہ اللہ:
(۱) جن کھیلوں کی احادیث میں صریح ممانعت آگئی ہےوہ ناجائز ہیں جیسے نرد،شطرنج،کبوتربازی جانوروں کو لڑانا وغیرہ۔(ص،43)۔
(۲)شطرنج: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین نے اسے کھیلنے سے صراحتا منع فرمایا ہے اور ظاہریہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس کی ممانعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوگی ۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے:"شطرنج عجمیوں کا جوا ہے "۔حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:" گنہگار ہی کھیلتا ہے۔
ان ہی سے ایک مرتبہ جب ایک سائل نے شطرنج کھیلنے کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا :"یہ باطل (بیکار) میں سے ہے اور اللہ تعالی باطل کو پسند نہیں کرتا" ۔ان ہی اثار و روایات کی وجہ سے حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر بعض ائمہ کرام نے ا سے کھیلنے سے منع فرمایا ہے۔(ص،59)
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
05/ذیقعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


