| 86528 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا ایک سوال ہے کہ پروپراٹیری ٹریڈنگ فرمز (Prop Firms)کے ساتھ ٹریڈنگ اسلامی اصولوں کے تحت جائز ہے یا نہیں؟ یہ فرمز ٹریڈرز کو ایک امتحان پاس کرنے کے بعد سرمایہ فراہم کرتی ہیں، اور تمام ٹریڈنگ ڈیمو اکاؤنٹس پر کی جاتی ہے، جس میں نفع و نقصان محض فرضی ہوتے ہیں۔ ٹریڈرز کو ایک معاہدے کے تحت نفع میں حصہ دیا جاتا ہے، اور فرم مارکیٹ میں حقیقی ٹریڈ نہیں کرتی۔ فرمز جو منافع ٹریڈرز کو فراہم کرتی ہیں، وہ دوسرے ٹریڈرز سے وصول کئے گئے امتحانی فیس سے آتا ہے۔ اگر کوئی ٹریڈر امتحان پاس کر لے تو اسے ایک ڈیمو اکاؤنٹ دیا جاتا ہے، اور دوسرے ٹریڈرز کی فیس سے حصہ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح کے مقابلے جیسا معلوم ہوتا ہے۔ کیا یہ انتظام جائز ہے؟
اضافہ از مجیب: سائل سے رابطہ نہ ہو سکا ،لہذا مختلف ویب سائٹس پر موجود معلومات سے درج ذیل صورت واضح ہوئی ہے۔
فرم کی کمائی محض امتحانی فیس(جسےچیلنج یاپیکیج کہا جاتا ہے) پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ فرم ٹریڈرز کی کمائی سے بھی متعین نفع وصول کرتی ہے۔نیز یہ واضح رہے کہ جوشخص امتحان میں کامیاب ہوجاتا ہے اسے حقیقی اکاؤنٹ تک رسائی دے دی جاتی ہے جہاں وہ فرم کی جانب سے فراہم کردہ سرمایہ پرٹریڈ کرتاہے اور نفع میں فرم بھی شریک ہوتی ہے۔ یہ واضح رہے کہ تمام پروپ فرمز کا طریقہ کار یکساں نہیں ہوتابلکہ ہر فرم کا طریقہ کاراور شرائط و ضوابط باہم مختلف ہوتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ فرمز پر ٹریڈ کرنا شرعا جائز نہیں۔ذیل میں تفصیل درج ہے:
بطور چیلنج یاپیکیج ابتدا میں لی جانے والی رقم امتحان میں کامیاب ہونے کی صورت میں بس اوقات واپس کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے، لیکن ناکام ہونے کی صورت میں مذکورہ رقم قابل واپسی (Refundable)نہیں ہوتی۔ امتحان میں کامیابی کی صورت میں جب ٹریڈشروع ہوتاہےتووہ حقیقی ٹریڈیعنی باقاعدہ خریدوفروخت (خواہ وہ ٹریڈحصص میں ہو، زر مبادلہ میں ہو یا بانڈز میں ہو ) پر مبنی نہیں ہوتا،بلکہ اسکرین پر موجود قیمتوں کے محض فرق کو (Arbitrage) کے مختلف اصولوں سے نکال کر اسی کو نفع و نقصان تصور کیا جاتاہے،چونکہ اس میں جوا، سٹہ اور قبضہ کیے بغیر چیزکوآگے بیچنے کی خرابیاں پائی جاتی ہیں، اس لیے یہ ٹریڈنگ شرعاً جائز نہیں اور اس پر حاصل شدہ نفع بھی جائز نہیں، بلکہ اس کوبلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 233):
نص محمد رحمه الله على عدم جوازه قبل القبض مطلقا كذا في بيوع الذخيرة.
الاختيار لتعليل المختار - (ج 1 / ص 14):
ومن باع سلعةً بثمن سلمه أولاً، إلا أن يكون مؤجلاً؛ وإن باع سلعةً بسلعة أو ثمناً بثمن سلما معا، ولا يجوز بيع المنقول قبل القبض.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 554) دار الكتاب الإسلامي:
( وحرم شرط الجعل من الجانبين لا من أحد الجانبين )؛ لما روى ابن عمر رضي الله عنهما {أن النبي صلى الله عليه وسلم سبق بالخيل وراهن } ومعنى شرط الجعل من الجانبين أن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا وهو قمار فلا يجوز ؛ لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من القمارين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والنقصان في كل واحدة منهما فصار ذلك قمارا وهو حرام بالنص.
فقه البیوع (2/265-263):
تجارة العملات عن طریق الفوریکس:
وقد شاع في عصرنا التجارة في العملات عن طریق "سوق العملات الخارجیة" (Foreign Exchange Trade) والذي یخفف فیقال: فوریکس (Forex)، وهذه سوق تتبادل فیها العملات بمقدار کبیر یبلغ قیمتها 38 تریلیون یومیًا، ومعظمها لعملیات المجازفة والتخمین(Speculation)، وإن هذا السوق لها طرق مختلفة للتجارة، وإن معظمها تشتمل علی محظورات شرعیة نذکر بعضها فیما یلي:
١.الأصل في العملات والنقود أنها وسیلة لتقویم الأشیاء ولیست مقصودةً بنفسها، وإن الشریعة الإسلامیة لاتستحسن أن تکون هي محل التجارة بنفسها، إلا لحاجة حقیقیة لتبادل بعض العملات ببعض. ولذلك فرضت علی بیع النقود شروطًا و قیودًا فصلناها أعلاه في مباحث الصرف. ولکن هذا السوق جعلت العملات محل التجارة بنفسها بما أحدث فسادًا کبیراً في النظام المالي المعاصر. وقد شرحت ذلك في بحثي "أسباب الأزمة المالیة وعلاجها في ضوء الشریعة الإسلامیة". وإنما حدث ذلك بعدم التقید بأحکام الشریعة في بیع العملات.
٢.شرحنا فيما قبل أن العملات الورقیة عند کثیر من العلماء المعاصرین والمجامع الفقهیة في حکم الذهب والفضة، فیشترط فی مبادلتها التقابض في المجلس. وإن هذا الشرط مفقود في معظم عملیات هذه السوق، فإنها تنقسم إلی بیع عاجل و آجل. وإن التقابض مفقود فیهما؛ لأن ما یسمی "البیع العاجل" (Spot Sale) لایقع فیه التقابض إلا بعد یومین من یوم العقد. وأما علی الموقف الثالث الذي شرحناه ورجحناه فإنه یجب في تبادل العملات المختلفة الجنس أن یقع القبض علی إحدی العملتین في مجلس العقد. وهذا الشرط مفقود أیضا في هذا السوق، فإنما یقع البیع والشراء عموما عن طریق الکمبیوتر أو الإنترنیت.
٣. وکثیرا ما یبیع الإنسان ما لایملکه، ولایقع التسلیم والتسلم في کثیر من عملیات السوق، وإنما یصفی الباعة والمشترون عملیاتهم بفروق الأسعار.
٤. وقد تعطی بورصة العملات فرصة للإنسان أن یودع فیها مبلغا أقل ویتجر بمبلغ أکثر، وتقدم البورصة ضمانًا للمبلغ الباقي بعمولة تطالبها من المتعامل بالأکثر، ویسمی "البیع بالهامش" (Sale on Margin)، وهذا في الحقیقة قرض یتقاضی علیه فوائد ربویة.
٥. ما یشتریه الإنسان عن طریق هذه السوق عملات غیر متعینة؛ لأن التعیین في العملات إنما یتحقق بالقبض، وهو مفقود في معظم العملیات.
ومن هذه الجهات فإنه لایجوز التعامل شرعًا عن طریق سوق الفوریکس.
أما الحاجة الحقیقیة لتبادل العملات للسفر أو للتجارة الدولیة فإنها توفی عن طریق البیع والشراء العادي من الصرافین، بشرط أن یتقید المتعامل بالشروط الشرعیة التي سبقت.
حمادالدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
21/رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


