| 86566 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص اپنی بیوی سے دور رہتا ہےاور اس سے فون پر بات کرتے وقت شہوت ابھرتی ہے تو پیٹ کے بل لیٹ جاتا ہے، اور ذکر کو بستر پر بنا ہاتھ لگائے دبا دیتا ہے یا کبھی بستر پر رگڑ دیتا ہےجس سے منی کا خروج ہو جاتا ہے،کیا ایسا کرنا گناہ ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اس شخص کا مذکورعمل گناہ ہے،اوریہ عام حالات میں حرام اور قابلِ تعزیر جرم ہے، لہٰذا سچی توبہ کرکے اس گناہ سے مکمل طور پر بچنےکا اہتمام ضروری ہے ، نیزیہ واضح رہے کہ ایک مرد کا چارمہینے سے زیادہ گھر سے باہر رہنابیوی کی اجازت اور اس کی خوشدلی کے بغیر جائز نہیں،جبکہ جہاں فتنے کاظنِ غالب ہوتو وہاں بیوی کی اجازت سے بھی سفر اختیار کرنا جائز نہیں اور اس میں مدت کی کوئی قید نہیں، اور جہاں ظنِ غالب نہ ہولیکن معتدبہ احتمال ہو وہاں بھی حتی الامکان اس سے احتراز ہی لازم ہے۔ (فتاویٰ عثمانی:2/310-312مکتبہ معارف القرآن کراچی)
اس گناہ سے بچنے کی تدبیر کے طور پر شوہر کو چاہیے کہ زیادہ مدت تک بیوی سے دور رہنے سے احتراز کرے اور ایسے وقت اور تنہائی کے موقع پر بیوی سے فون پر بات بھی نہ کرے کہ جس میں اس گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں گناہوں پر رزق سے محرومی ، دلی بے سکونی، ناگہانی موت اور آخرت میں ان پر پکڑ اور درد ناک عذاب وغیرہ جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا استحضار رکھے ، اور اس کے ساتھ ساتھ اس گناہ سے بچنے کی یہ خوشخبری بھی یاد رکھے کہ جو بندہ اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے دے تو اس کے لیے نبی کریم ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے ، نیز خشوع و خضوع اور آداب کی رعایت رکھ کر باجماعت نماز کی پابندی کرے کہ قرآن پاک میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (8/ 100):
حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي، حدثنا عمر بن علي، سمع أبا حازم، عن سهل بن سعد، عن رسول
الله ﷺ قال: من يضمن لي ما بين لحييه وما بين رجليه أضمن له الجنة.
صحيح مسلم (4/ 1980):
حدثني محمد بن حاتم بن ميمون، حدثنا ابن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن أبيه، عن النواس بن سمعان الأنصاري، قال: سألت رسول الله ﷺ، عن البر والإثم فقال: البر حسن الخلق، والإثم ما حاك في صدرك، وكرهت أن يطلع عليه الناس.
الموسوعة الفقهية الكويتية (4/ 98،102):
أما الاستمناء فلا بد فيه من استدعاء المني في يقظة المستمني بوسيلة ما. ويكون الاستمناء من الرجل ومن المرأة.ويقع الاستمناء ولو مع وجود الحائل. جاء في ابن عابدين: لو استمنى بكفه بحائل يمنع الحرارة يأثم أيضا...يكون الاستمناء باليد أو غيرها من أنواع المباشرة...الاستمناء باليد إن كان لمجرد استدعاء الشهوة فهو حرام في الجملة، لقوله تعالى: "والذين هم لفروجهم حافظون إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون". (سورة المؤمنون / 5 ، 7)و العادون هم الظالمون المتجاوزون، فلم يبح الله سبحانه وتعالى الاستمتاع إلا بالزوجة والأمة، و يحرم بغير ذلك...الاستمناء المحرم يعزر فاعله باتفاق، لقوله تعالى: "و الذين هم لفروجهم حافظون إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين" .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:2/ 399-4/27):
وعبارة الفتح: فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب اهـ زاد في معراج الدراية :وعن أحمد والشافعي في القديم الترخص فيه وفي الجديد يحرم، ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته اهـ وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة :أنه(ای بید زوجتہ) يكره .ولعل المراد به كراهة التنزيه فلا ينافي قول المعراج: يجوز، تأمل .وفي السراج: إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة ،أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر قال أبو الليث: أرجو أن لا وبال عليه، وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم اهـ...في الجوهرة: الاستمناء حرام، وفيه التعزير...(قوله الاستمناء حرام) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة، أما إذا غلبته الشهوة وليس له زوجة ولا أمة ففعل ذلك لتسكينها فالرجاء أنه لا وبال عليه كما قاله أبو الليث.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:3/ 202):
ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا،ولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها...ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به. اهـ. قال في النهر: في هذا الكلام تصريح بأن الجماع بعد المرة حقه لا حقها اهـ. قلت: فيه نظر، بل هو حقه وحقها أيضا، لما علمت من أنه واجب ديانة.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


