03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں پلاٹ بیٹوں اور بیٹیوں کے نام کروانے کا حکم
87364ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

میں نے میلسی شہر میں  ایک پلاٹ خریدا ہے، جس کی قیمت میں نے اپنی ذاتی رقم سے ادا کی ہے، پلاٹ ابھی تک میری ملکیت ہے،  اب پلاٹ نام کروانے کا مرحلہ ہے، میرے پاس گاؤں میں ایک اور پلاٹ بھی ہے، مگر اس کی قیمت کم ہے، جبکہ خریدے گئے پلاٹ کی قیمت كافی زیادہ ہے، میں یہ دونوں پلاٹ اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہوں، میرے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، اس کا شرعی طریقہٴ کار کیا ہے؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ میلسی والا پلاٹ لمبائی سات مرلے کا ہے اور اس کا ایک ہی طرف دروازہ نکالا جا سکتا ہے، بقیہ اطراف میں مکانات ہیں، اس لیے دونوں بیٹوں کو علیحدہ علیحدہ تقسیم کر کے دینا مشکل ہے، اسی طرح گاؤں والا پلاٹ پونے چھ مرلے کا ہے اس کو تقسیم کر کے قابلِ رہائش بنانا مشکل ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید جاننا چاہیےکہ زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کو دینا  دراصل ہبہ (گفٹ) ہے نہ کہ میراث۔  اورہبہ کے بارے میں اگرچہ شرعاً اور قانوناً والد کو یہ اختیار ہے کہ آدمی جتنی جائیداد چاہے اولاد کو دے اور جتنی چاہے اپنے پاس رکھے، اولاد والد کو اپنے مال میں سے کوئی حصہ  دینے پر مجبور نہیں کر سکتی، کیونکہ زندگی میں ہر شخص اپنے مال و جائیداد کا خود مالک  اور تصرف کرنے میں بااختیارہوتا ہے، تاہم اگروالدزندگی میں اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا چاہے تو اس کےبارے میں شرعاً بہتریہ ہے کہ سب اولاد کو برابر حصہ دے، ورنہ کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت  آدھا حصہ دے، اور اگر  کسی معتبر عذر جیسےکسی بیٹے یا بیٹی کی خدمت، دینداری یا مالی حالت کی تنگی کی بنیاد پر اس کو کچھ حصہ زیادہ دےدیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دیگر ورثاء کو محروم کرنے کا ارادہ  اور نیت نہ ہو۔

اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ  آپ ان پلاٹوں میں سے جتنا حصہ چاہیں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان تقسیم کر یں اور جتنا چاہیں اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، لہذا اگر آپ دونوں پلاٹ اپنی اولاد کو دینا چاہیں تو اس کابہتر طریقہ یہ ہے کہ  آپ بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر حصہ دیں اور دونوں پلاٹوں کو چار حصوں میں تقسیم کر کے دو حصے بیٹوں کو اور دو حصے بیٹیوں کو دے دیں اورپھردونوں پلاٹ ان چاروں کے نام کروا دیں۔

 لیکن اگر آپ بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دوگنا حصہ دینا چاہیں تو ایسی صورت میں دونوں پلاٹوں کی قیمت(یہ قیمت اسی دن کی معتبر ہو گی جس دن پلاٹ ان کو گفٹ کیا جائے گا) لگوا لیں اور اس کو چھ حصوں میں تقسیم کر کے چار حصے دونوں بیٹوں کو اور دو حصے دونوں بیٹیوں کو دے دیں، لہذا اگر شہر والے پلاٹ کی قیمت گاؤں والے پلاٹ کی قیمت سے دوگنا ہو تو شہر والا پلاٹ دونوں بیٹوں کو اور گاؤں والا پلاٹ دونوں بیٹیوں کو دے دیا جائے اور اگر شہروالے پلاٹ کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہو تو ایسی صورت میں زائد رقم (یہ رقم بیٹیوں کی رضامندی سے قسطوں میں بھی ادا کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ بہت زیادہ تاخیر نہ کی جائے کہ جس سے پلاٹوں کی قیمت میں واضح فرق آجائے) بیٹیوں کو ادا کر دی جائے، تاکہ ان کا حصہ بیٹوں کے مقابلے میں کم از کم آدھا ہو جائے۔

نیزبہردو صورت اولاد کو پلاٹ ہبہ(گفٹ) کرنے کے بعد قبضہ بھی دے دیا جائے، کیونکہ شرعاً ہبہ کا معاملہ قبضہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، البتہ چونکہ یہ پلاٹ چھوٹے ہونے کی وجہ سے ناقابلِ تقسیم ہیں، کیونکہ سوال میں تصریح کے مطابق تقسیم کرنے کے بعد ان کو قابلِ رہائش بنانا مشکل ہے، اس لیے شرعاً باقاعدہ تقسیم کر کے سب کو علیحدہ علیحدہ قبضہ دینا ضروری نہیں ہو گا، بلکہ بغیر تقسیم کیے مشترکہ طور پر پلاٹ ان کے قبضہ میں دے دینا کافی ہے۔ 

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (4/ 374) دار الفكر، بيروت:

أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز. وأما ركنها فقول الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها فلو وهبه على أن للموهوب له الخيار ثلاثة أيام صحت الهبة إن اختارها قبل أن يتفرقا.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 222) دار احياء التراث العربي – بيروت:

الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد،والعقد

ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك. وقال مالك: يثبت الملك فيه قبل القبض اعتبارا بالبيع، وعلى هذا الخلاف الصدقة. ولنا قوله عليه الصلاة والسلام: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة" والمراد نفي الملك، لأن الجواز بدونه ثابت، ولأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:

(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل  بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

/3 ذوالقعدة 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب