03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کےکاغذات پرزبردستی دستخط لینے کا حکم
87097طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

16اپریل 2024کومیرا نکاح ایک لڑکی سے ہوا، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی۔ ایک دن لڑکی کے والد میرے گھر آئے اور ہنگامہ برپا کیا، جس کی وجہ سے میرے والد نے مجھ پر زور دیا کہ میں طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دوں، ورنہ وہ مجھ سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں طلاق کے کاغذات پر دستخط نہیں کروں گا تو مجھے گھر چھوڑنا ہوگا۔

والد صاحب کے ڈر سے میں نے طلاق کے کاغذات نہیں پڑھے، بلکہ صرف اس جگہ دستخط کیے جہاں والد صاحب نے ہاتھ رکھا تھا۔ نہ میری طلاق دینے کی نیت تھی، نہ کوئی ارادہ، اور نہ ہی زبان سے کوئی الفاظ ادا کیے۔ دستخط کے بعد لڑکی کے والد نے مجھ سے کہا کہ زبانی طلاق بھی دوں، لیکن میں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میں نہ تو زبانی کوئی لفظ کہوں گا اور نہ کوئی پیغام بھیجوں گا۔

براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے یہ بات بطور تمہید سمجھ لینی چاہیے کہ دار الافتاء سے جو جواب تحریری یا زبانی دیا جاتا ہے وہ سوال کے مطابق ہوتا ہے۔ سوال کے درست یا غلط ہونے کی صورت میں جواب کے صحیح یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔ نیز اگر سوال عام انداز میں ہو اور کوئی ایک صورت واضح نہ کی گئی ہو تو جواب میں اصول بتا دیا جاتا ہے جس کو اپنی صورت حال کےمطابق کرنا اور اپنی خواہش کےمطابق   فٹ کرنے کی ذمہ داری بھی سائل کی ہوتی ہے۔یہ بھی خوب ذہن نشین فرمالیں کہ طلاق کا معاملہ شرعاً انتہائی نازک اور حلال و حرام کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی دارالافتاء سے فتوی لے کر اس کو اپنی خواہش کے مطابق  فٹ کرنے  سے کوئی شخص عند اللہ گناہ سے بچ نہیں سکتا۔

جبری طلاق اگر زبان سے نہ دی جائے، محض لکھ کر یا طلاق نامے پر دستخط کر کے دی جائے تو واقع نہیں ہوتی بشرطیکہ  جبر اور اکراہ  متحقق ہو۔جبر واکراہ کے تحقق کےلیے چار شرائط ہیں:

  1. دھمکی کسی ایسی چیز کی ہو جس سے جان جانے ، عضو ضائع ہونے کا خطرہ ہو، یا کم سے کم ایسی غیر معمولی صورت حال سے دوچار کرنے کی ہو جس کاتحمل نہ ہوسکتاہواور اس سے عموماً مجبور کیے جانے والے اس جیسے شخص کی رضامندی ختم ہو جاتی ہو۔
  2. ‌مجبور کرنے والا اس کام کی قدرت رکھتا ہو جس کی وہ دھمکی دے رہا ہے۔ یہ قدرت ذاتی طور پر بھی ہو سکتی ہے اور کسی کارندے یا تعلق دار کی مدد سے بھی۔
  3. ‌جسے مجبور کیا جائے اسے کم از کم غالب گمان کے درجے میں یہ خوف ہو کہ کام نہ کرنے پر فوری نتیجہ  دھمکی کے مطابق نکل سکتا ہے۔
  4. ‌جس چیز پر مجبور کیا جائے اس سے مجبور ہونے والا شخص اس اکراہ سے پہلے رکا ہوا ہو اور وہ کام نہ کرنا چاہتا ہو۔

یہ چاروں شرائط پائی جائیں تو اکراہ درست ہوگا اور اس کے احکام لاگو ہوں گے۔

مذکورہ بالاچارشرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر آپ کو واقعی  طلاق دینے پر مجبورکیاگیاہو تو محض طلاق نامہ پر دستخط کرنےسے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

حوالہ جات

ماخذہ:التبویب،فتویٰ: 73227، فتویٰ: 78374

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

9 رمضان المبارک1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب