| 87222 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرا نکاح April 2024 کو ہوا تھا ،نکا ح کے ایک ماہ بعد میری بیوی اپنی فیملی کے پریشر میں آکر گھر جاکر بیٹھ گئ تھی۔میں نے کافی مرتبہ معاملات حل کرنے کی کوشش کی ،لیکن میری بیوی نے بات نہیں مانی۔میں نے January 2025 کو طلاق دیدی تھی جو کہ ایک موقع پر تین مرتبہ طلاق کہا تھا ،اس کے بعد divorce certificate بنوایا تھا۔ لہذا اب میری بیوی اور ان کی فیملی مجھ سے رابطہ(contact) کر رہے ہیں اور نکاح کرنے پر اصرار کر رہے ہیں ۔کیا اس سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں چونکہ آپ اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے چکے ہیں جن کی وجہ سے بیوی آپ پر حرام ہو چکی ہے۔اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔البتہ حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے ۔
حلالہ کا طریقہ یہ ہے کہ مطلّقہ عورت عدت گزارنے کے بعد باقاعدہ شرعی طریقے سے بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد کسی وجہ سے طلاق دے دے یا اس شوہر کا انتقال ہوجائےتو دوسرے شوہر کی عدت گزار کر پہلے شوہرسےدوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
لہذاحلالہ کے بعد جب دوسرے شوہر کی عدت گزر جائے تو آپ دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہے ۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.(بدائع الصنائع:3/187)
وفی الفتاوی الہندیۃ:وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.كذا فی الهداية.( الفتاوی الہندیۃ:211/2)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/19رمضان المبارک ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


