| 85949 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
میں سید ہوں،اور بے روزگار ہوں،میری بچی کی شادی سر پر ہے،کیا میں زکوة کے پیسوں کو لے کر اخراجات کرسکتاہوں یا نہیں؟ایک عالم نے کہا ہے کہ جس پر زکوة واجب نہ ہووہ لے کر آپ کو یعنی مجھ کو ہدیہ کرے تو وہ آپ پر زکوة کی مد میں شامل نہیں ہوگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سید کو زکوة کی رقم نہیں دی جاسکتی ہے،البتہ اگر کسی مستحق زکوة شخص کو زکوة کی رقم دی جائے اور پھر وہ اپنی خوشی سے سید کو وہ رقم حوالے کرے تو جائز ہے،وہ رقم اس سید کے حق میں زکوة کی رقم شمار نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
حاشية الشلبي علی تبيين الحقائق (5/ 173):
(قوله «هو لها صدقة») والمعنى في ذلك أن الخبث باعتبار أنه من أوساخ الناس لا لعين المال فكان الخبث في الجهة فلم يبق معنى الوسخ بتبدل السبب؛ لأن المولى يتناوله بجهة غير الجهة التي تناوله المكاتب؛ لأن المولى يأخذه على أنه بدل الكتابة لا على أنه صدقة. اهـ. أتقاني
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
18/ جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


