| 86319 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی نے گنے کی فصل کاشت کی ہو اور پھر فصل تیار ہونے سے پہلے وہ اسے بیچ دے (یعنی بیچتے وقت گنا ابھی پھیکا تھا) چار لاکھ 20 ہزار میں۔خریدنے والے نے ایک لاکھ روپے نقد دیے اور تین لاکھ بیس ہزار فصل بیچنے کے بعد دے گا۔ جو ایک لاکھ روپے نقد ملے ان میں سے 47 ہزار بیج والے کو دے دیے۔ فصل بیچنے والے دو لوگ ہیں جن کی شراکت داری نصف پر ہے تو اس صورت میں عشر کس پر ہوگا اور کتنا ہوگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فصل چونکہ تیار ہونے سے پہلے بیچ دی گئی تھی، لہذا اس کا عشر خریدنے والوں پر ہے۔اگر اس فصل کو ایسے پانی سے سیراب کیا جائے جس میں خرچہ آتا ہو (مثلاً ٹیوب ویل وغیرہ کے ذریعے)تو اس میں نصفِ عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ (5%) دینا واجب ہے، اور اگر خرچہ نہ آتا ہو(مثلاً بارش کے پانی وغیرہ سے) تو اس میں کل فصل کادسواں حصہ ( %10) دینا ضروری ہے۔
حوالہ جات
قال شمس الأئمة السرخسي رحمہ اللہ تعالی:العشر يجب فيما سقته السماء أو سقي سيحا فأما ما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر وبه ورد الأثر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما سقته السماء ففيه العشر وما سقي بغرب، أو دالية ففيه نصف العشر» وفي رواية «ما سقي بعلا، أو سيحا ففيه العشر وما سقي بالرشاء ففيه نصف العشر» وعلل بعض مشايخنا بقلة المؤنة فيما سقته السماء وكثرة المؤنة فيما سقي بغرب، أو دالية وقالوا لكثرة المؤنة تأثير في نقصان الواجب. (المبسوط :3/ 4)
قال الحصکفي رحمہ اللہ تعالی: ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع.قال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:(قوله: ولو باع الزرع إلخ) الظاهر أن حكم خراج المقاسمة كالعشر كما يعلم مما مر. ح. ثم هذا إذا باع الزرع وحده وشمل ما إذا باعه وتركه المشتري بإذن البائع حتى أدرك فعندهما عشره على المشتري وعند أبي يوسف عشر قيمة القصيل على البائع، والباقي على المشتري كما في الفتح.
(رد المحتار: 2/ 333)
في الھندیۃ:ووقته وقت خروج الزرع وظهور الثمر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق. فلو عجل عشر أرضه قبل الزرع لا يجوز، ولو عجل بعد الزراعة بعد النبات فإنه يجوز ولو عجل بعد الزراعة قبل النبات فالأظهر أنه لا يجوز، ولو عجل عشر الثمار إن كان بعد طلوعها يجوز، وإن كان قبل طلوعها لا يجوز في ظاهر الرواية هكذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية :1/ 186)
محمد اسماعیل بن نجیب الرحمان
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۱۱رجب ۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل ولد نجیب الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


