03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض فراہم کرنے پر5فیصد رقم انتظامی اخراجات کے نام سے لینا
86337سود اور جوے کے مسائلانشورنس کے احکام

سوال

میں ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں جو کہ طلباء کیلئے مالی معاونت کا ایک ضرورت پر مبنی پروگرام چلاتی ہے، جو ان طلبہ کو فراہم کیا جاتا ہے جو اپنی ٹیوشن اور دیگر فیسیں ادا کرنے سے قاصر ہوں ، اس پروگرام کے تحت طلبہ کو یہ سہولت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات کے پیسے بعد میں ادا کر سکیں۔ یونیورسٹی کے مطابق یہ قرضہ سود سے پاک ہے، تاہم اس پر سالانہ 5% انتظامی چارج (Administrative Charges) لاگو کیا جاتا ہے،یونیورسٹی طلباء کو 6 ہزار روپیہ جیب خرچ کیلئے بھی دیتی ہے اگر کوئی لینا چاہے،میرا سوال یہ ہے کہ یہ 5% انتظامی چارج کیا شرعی طور پر جائز ہیں  یا یہ سود کے زمرے میں آتے ہیں؟اور اگر یہ سود کے دائرے میں آتے ہیں، تو وہ طلبہ جو یہ قرض لے چکے ہیں، اس صورت میں کیا کر سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یونیورسٹی کوقرض کی فراہمی پرجو حقیقی اخراجات کرنے پڑتے ہیں اس کی بقدر یونیورسٹی کے لئے رقم لیناجائزہے ،حقیقی لاگت سے زیادہ چارجزلگاناسود کی وجہ سے جائز نہیں، صورت مسؤلہ میں یونیورسٹی جوقرض فراہم کرتی ہے،اس پرانتظامی اخراجات کی لاگت اگر 5 فیصدتک آتی ہے تویونیورسٹی کے لئے  یہ وصول کرنادرست ہے،اگراخراجات کم ہوتے ہیں اورلگائے جانے والے چارجز زیادہ ہیں توپھریہ جائز نہیں۔آئندہ کے لئے ایسے معاملہ سے اجتناب لازم ہے،البتہ جوقرض حاصل کیاگیاہےاس کااستعمال جائزہے۔

حوالہ جات

فی المعاییرالشرعیۃ:یجوز للمؤسسۃ المقرضۃ أن تأخذ علی خدمات القروض مایعادل مصروفاتھاالفعلیۃ المباشرۃ،ولایجوز لھاأخذزیادۃ علیھا،وکل زیادۃ علی المصروفات الفعلیۃ محرمۃ۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

 ۱۱/رجب ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب