03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیکٹرنگ کمپنی اور ڈسپیچر کا کام کرنے کا حکم
86352خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

امریکہ کی ٹرکنگ انڈسٹری درج ذیل طریقے سے کام کرتی ہے:

 فیکٹری ایک پراڈکٹ بناتی ہے اور اسے کسی کو بھیجنا ہوتا ہے۔ یہ بڑی مقدار میں ہوتی ہے۔ پراڈکٹ کا اسٹاک ایک بروکر کو دیا جاتا ہے، جس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے بھیجے۔ ڈسپیچر بروکر سے رابطہ کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ٹرک ہے جو اسٹاک بھیج سکتا ہے۔ ڈسپیچر کے کیریئرز (ٹرک ڈرائیورز یا کمپنیاں) کے ساتھ معاہدے ہوتے ہیں اور وہ انہیں اس کام کے بارے میں بتاتا ہے۔ کیریئر اسٹاک کا خیال رکھتا ہے اور ڈسپیچر اسے ایک راستہ دیتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل ہو۔ ڈیلیوری مکمل ہونے کے بعد، بروکر کیریئر کو ادائیگی کرتا ہے اور کیریئر ایک مخصوص کمیشن ڈسپیچر کو دیتا ہے۔ اس عمل میں، فیکٹری کو ادائیگی کے لیے 30-40 دن لگتے ہیں، جو کہ آئیڈیل نہیں ہے۔ ایک فیکٹرنگ کمپنی متعارف کروائی جاتی ہے جو بروکر کو مطلوبہ ادائیگی فراہم کرتی ہے اور 30-40 دن بعد فیکٹری کمیشن کے ساتھ کمپنی کو ادائیگی کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ، کیا فیکٹرنگ کمپنی سود پر کام کر رہی ہے اور کیا اس انڈسٹری میں بطور ڈسپیچر کام کرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فیکٹرنگ کمپنی  چونکہ مطلوبہ رقم بروکر کو نقد دیتی ہےاور پھر مقررہ وقت(30-40)   آنے پر فیکٹری  سے یہ رقم  اضافے کے ساتھ وصول کرتی ہے  ۔یہ قرض پر نفع وصول کرنا ہے  جو کہ سود ہے ،لہٰذا یہ   جائز نہیں ۔

البتہ ڈسپیچر (dispatcher) چونکہ کیریئرcarrier)  ( کو اپنی خدمات(ایجنسی) فراہم کرتا ہے ،اور ان خدمات کے عوض کمیشن لیتا ہے ،لہٰذا یہ   کام کرنا  اور اس پر کمیشن لینا دونوں جائز ہیں۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (5/ 394):

ذكر محمد رحمه الله في كتاب الصرف عن أبي حنيفة رضي الله عنه: أنه كان يكره كل قرض فيه جر منفعة، قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد،

فقه البيوع(1/356):

قد أنشئت في سوق الرأسمالية شركات تشترى من الشركات أو البنوك جميع ديونها في ذمة عملائها، وتتحمل مخاطر التحصيل، وذلك بأقل من إجمالي قيمة  الديون، وتسمى : Factoring companies و نشاطها كله مبني على بيع الديون وهوممنوع شرعاً.وكذلك ما يسمى في السوق الرأسمالية: forfeiting وهو بيع دين ناشئ عن بعض تعاملات الجهة البائعة، مثل أن تبيع الشركة ربع ديونها في ذمة المتعاملين معها. والفرق بين Factoring و forfeiting هو أن في الأول تباع جميع الديون، وفي الثاني بعضها، وبما أنه بيع للدين بأقل من قيمته الاسمية، فإنه تعامل ربوي بحت ولاسبيل إلى جوازه.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(6/ 47):

في البزازية: ‌إجارة ‌السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل۔

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

13/رجب /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب