| 85790 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
ایک شخص (میرے بھائی) محمد اسامہ ولد جمیل احمد کا نکاح اپنی خالہ زاد سائرہ بنت محمد صفر کے ساتھ 20 جنوری 2022 کو بحق مہر مؤجل 30000 روپے ہوا۔اور رخصتی فوراً نہیں ہوئی ،بلکہ تقریباً دو سال کا وقت طے پایا ۔
( اس سے قبل منگنی 24 دسمبر 2021 کو ہوئی تھی اس وقت بھی دو سال کا وقت طے کیا تھا، لیکن پھر لڑکی والے اپنی بات سے پھر گئے اور رخصتی دینے سے انکار کردیا تھا)اب جب رخصتی کا وقت قریب آیا تو ان لڑکی والوں نے رخصتی دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہم اس نکاح سے مطمئن نہیں ہیں اور ہم اس نکاح کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ہم خلع چاہتے ہیں، ہم نے خلع دینے سے انکار کردیا اور انہیں سمجھایا ،لیکن وہ نہ مانے اور عدالت جانے کی دھمکی دی ، بلآخر انہوں نے عدالت جاکر خلع کے لیے درخواست دائر کردی اور اس میں کچھ غلطی بھی کی ۔ مثلاً لڑکا بد تمیز ہے، اور یہ ہماری غربت کا مذاق بناتے ہیں ،طعنہ دیتے ہیں اور یہ کہ یہ ہمیں جہیز میں کیا کیا دینگے کی باتیں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔یہ باتیں سراسر غلط ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ہمیں عدالت کی جانب سے طلب کیا گیا لیکن ہم نہیں گئے ،کیونکہ ہم خلع نہیں دینا چاہتے تھے اور اس گناہ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔عدالت کی طرف سے انہیں (لڑکی والوں کو ) خلع کی ڈگری دیدی گئی ۔
مفتیانِ کرام! صرف اس وجہ سے خلع لینا کہ ہم اس سے مطمئن نہیں، جائز ہے ؟
عدالتی خلع سے خلع ہوجاتی ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع ایک عقد ہے جس میں میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ان میں سے کوئی ایک بھی راضی نہ ہو تو خلع واقع نہیں ہوتا۔لہذا شوہر کی رضامندی کے بغیر صرف بیوی کے دعویٰ کی بنیاد پر خلع کی عدالتی ڈگری کا اعتبار نہیں ہے،اور نہ اس سے نکاح ختم ہوا ہے۔
شوہر طلاق یا خلع دینے پر راضی نہ ہو تو پھر بیوی عدالت کے ذریعے شوہر سے جدائی حاصل کرسکتی ہے،تاہم اس کے لیے بھی اعذار اور فسخ نکاح کےشرعی اصولوں کالحاظ کرنا ضروری ہے ،سوال میں ذکر کردہ اعذار سے خلع اور فسخ نکاح ثابت نہیں ہوتے ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 439):
الخلع (هو) لغة الإزالة، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه).وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165):
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
06/ جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


