| 85944 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
ہم یوٹیوب چینل بنا کر ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں، پھر دس ہزار ویورز ہونے پر اس چینل کو بیچ دیتے ہیں، اس کے بدلے ہم پیسے وصول کرتے ہیں اور خریدار اس پر مزید سبسکرائبر اور ویوز لگا کر مونیٹائز کر کے آگے بیچ دیتا ہے، ہم ویڈیو گیمز اپ لوڈ کرتے ہیں اور اس پر یوٹیوب کی شارٹ ساؤنڈ لگاتے ہیں، اگر یہ ساؤنڈ کی وجہ سے ناجائز ہے تو کیا بغیر ساؤنڈ کے جائز ہے؟ اس سے حاصل شدہ آمدن حلال ہے؟ نیز اگر اس چینل کو خود مونیٹائز کر کے چلائیں تو اس کی آمدن کا کیا حکم ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یوٹیوب چینل اگرچہ فی نفسہ مال نہیں،مگراس کومونیٹائز کرنے کے لیے عمدہ مواد پرمشتمل معیاری ویڈیوزبنانے اور انہیں اپ لوڈ کرنے کے لیے آدمی کی محنت اور پیسہ دونوں چیزیں خرچ ہوتی ہیں، کیونکہ اچھا کیمرہ خریدنے، کمرے میں ویڈیوز بنانے کے لیےروشنی کا انتظام، ویڈیوز میں آڈیٹنگ کرنے کے لیے سوفٹ ویئر یا آئی ٹی کے کسی ماہر کا انتظام ،اپ لوڈ کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا پیکج وغیرہ لگانے اور پھراپنے چینل کی تشہیر اور مارکیٹنگ کے لیے اچھی خاصی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان سب چیزوں پر آدمی کی محنت بھی صرف ہوتی ہے، اس لیے آئی ٹی کے سوفٹ ویئر اور اپلیکیشنز (Apps)کی طرح آج کل ان ویڈوز کو بھی شرعی اعتبار سےمال شمار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ مال ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو لوگوں کے عرف میں متقوم چیز(جس کی عرف میں کوئی قیمت ہو) شمارہوتی ہو، اس لیے آپ کایوٹیوب چینل بنا کر اس کو مونیٹائز کر کے آگے بیچنا فی نفسہ جائز ہے۔
البتہ یوٹیوب چینل پر ویڈیوز میں مشہوری (Marketing)کےلیے جو اشتہارات چلائے جاتے ہیں ان کی مختلف اقسام اور کیٹیگریز ہوتی ہیں اور چینل کےمالک کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ان اشتہارات کو ان کی کیٹیگری کے حساب سے بلاک کر دے، نیز اس کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ اس کی اپلوڈ کی ہوئی ویڈیو میں جو اشتہارات چلے ہیں ، وہ ان اشتہارات کو چلنے کے بعد دیکھ سکے اور اگر کسی اشتہار کو آئندہ کے لیے بلاک کرنا چاہے تو اسے بلاک بھی کر سکے۔
لہذا یوٹیوب چینل والے کے ذمہ لازم ہے کہ وہ ان تما م کیٹیگریز کے اشتہارات کو
حوالہ جات
(الفتاوی الھندیۃ، 4/450، ط: دار الفکر):
قال الحصكفی رحمہ اللہ تعالی : " (و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قرأها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي."
(حاشية ابن عابدين على الدر المختار ، 6/349، ط: دار الفكر):
صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله - عليه الصلاة والسلام - «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه - عليه الصلاة والسلام - أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه».
فقہ البیوع (314/1): مكتبة معارف القران:
واما التلفزیون۔۔۔۔۔۔۔و منھم من یقول: إن الصورالتی تظھرعلی شاشة لیست من الصور الممنوعہ.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
18/جمادی الاخرى 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


