| 86768 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
اب تک جو کمائی کی ہے اس کا کیا کیا جائے؟کیامنافع رکھنا اور استعمال کرنا درست ہے ؟ اسی طرح جو اصل مالیت تھی
اس کو نکا ل کر استعمال کرسکتے ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
موجودہ شکل میں چونکہ کرپٹو کے کاروبار کے جواز کا فتویٰ نہیں ،لہٰذا ایسی آمدن میں سے اپنی انویسٹمنٹ نکال کرباقی منافع یا تو صدقہ کیا جائے ،یا جواز کا فتویٰ آنے کے بعد اسے استعمال کیا جائے ۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (3/ 1219):
سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ( وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه ) ( إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه.
(فقہ البیوع /22105):
المال المغصوب وما فی حکمہ مثل ما قبضہ الانسان رشوۃ او سرقۃ او بعقد باطل شرعا، لا یحل لہ الانتفاع بہ، ولا بیعہ ولا ھبتہ، ولا یجوز لاحد یعلم ذلک ان یاخذہ منہ شراء او ھبۃ او ارثا. ویجب علیہ ان یردہ الی مالکہ، فان تعذر ذلک وجب علیہ ان یتصدق بہ عنہ. وان کان المال نقدا ، واشتری بہ شیئا بالرغم من عدم الجواز، فان اشتری بعین المال الحرام ، فلا یجوز الانتفاع بما اشتراہ حتی یودی بدلہ الی صاحبہ.اما اذا اشتری شیئا بثمن فی ذمتہ ثم نقد الثمن من الحرام... الراجح انہ لا یجوز الا بعد اداء البدل الی المالک او التصدق.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
2/شعبان 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


