| 86481 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے چند سال قبل (30) روزوں میں سے تقریباً ہر روزے کی حالت میں مشت زنی جیسا گناہ کیا ہے۔ اب الحمدللہ دین کی طرف رجحان ہوا ہے اور میں اس گناہ پر سخت ندامت اور شرمندگی محسوس کر رہا ہوں۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان روزوں کا کفارہ یا قضا ضروری ہے؟ اور اگر قضا یا کفارہ ضروری ہو تو میں مالی طور پر اس قابل نہیں ہوں کہ کفارہ ادا کر سکوں۔برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ اس گناہ کی تلافی کا صحیح طریقہ کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ روزے کی حالت میں مشت زنی کرنے سےاگر انزال ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے،البتہ مشت زنی کی وجہ سے صرف قضاء لازم ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ میں جتنےدن روزےکی حالت میں یہ عمل سر زد ہوا ہے اگر اس سے انزال بھی ہوا ہے تو سائل پر اتنےدنوں کے روزوں کی قضاء لازم ہے۔
حوالہ جات
فقه العبادات على المذهب الحنفي (ص133 بترقيم الشاملة آليا):
الاستمناء بالكفّ أو غيره، أو الفطر بالجماع في غير رمضان.فهذه الأفعال كلها مفطرة لكن لا توجب الكفارة لعدم تمام الجناية.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 399):
مطلب في حكم الاستمناء بالكف (قوله: وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
17/ رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


