03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد میں اعمال کی ذمہ داری کس پر ہے؟
86344وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

کیا  مسجد میں تبلیغی اعمال اور علمی دروس شروع کرنے کی ذمہ داری اہل محلہ اور امام مسجد دونوں پہ ہے، اور  اس سلسلے میںاخراجات اور انتظامات سب کے ذمہ ہیں یا صرف ایک شخص یا چند افراد پر؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دعوت و تبلیغ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کاعمل  جناب نبی کریم ﷺ کے مبارک زمانہ سے امت کی ذمہ داری میں شامل رہا ہے ، قرآن و حدیث کی کئی نصوص اس عمل کی اہمیت و ضرورت اور افضلیت پر وارد ہوئی ہیں ، تقریباً ہر دور میں امتِ محمدیہ ’’علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام‘‘ عوام الناس کے حالات کے مناسب ، مختلف طریقوں سے اس  ذمہ داری کی بجاآوری کرتی رہی ہے۔صورت مسئولہ میں مذکور اعمال  کی ادئیگی کیلئےاس سلسلے میں مناسب اقدامات مثلاً تبلیغی گشت ، علمی دروس اور تعلیمی حلقے لگانے کا اہتمام کرنا باعثِ ثواب ہے،لہٰذا بحیثیت مسلمان ہر شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان اعمال کے انتظامات اور اخراجات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے  ، مگر اس کے اخراجات اور انتظامات  وغیرہ کسی  ایک شخص کے ذمہ واجب نہیں ،جو  لوگ تبرعاً ان اعمال کا اہتمام کریں گے ،وہ ثواب کے مستحق ہوں گے ، چنانچہ  کسی شخص کو زبردستی خرچ کرنے یا  ان انتظامات کی ذمہ داری لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی کلامہ المجید(آل عمران،110): كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ........ الآیۃ

و قال اللہ تعالی ،المائدة(2): وَ تَعَاوَنُوا عَلَی البِروَ التَّقوٰی.   ........  الآیۃ

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/رجب /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب