03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی آبادی سے کیا مراد ہے ؟(مسجد کوعبادت سے آباد کرنے کاکیامطلب ہے؟)
86343وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

مسجد کی آبادی سے کیا مراد ہے؟ کیا پنج گانہ نماز اور تبلیغی اعمال( تعلیم، گشت، مشورہ) ہی مسجد کی آبادی کیلئے کافی ہیں، یا بچوں کیلئے قاعدہ ناظرہ حفظ کا درس اور بڑوں کے لیے علمی دروس مثلا تفسیر فقہ سیرت کے دروس بھی مسجد کی آبادی کیلئے لازمی اور ضروری ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مساجد کی آبادی کی ترغیب دیتے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ’’ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو خوب چرو ، سوال کیا گیا کہ: جنت کے باغ کیا ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: مساجد۔‘‘ (سنن الترمذی، ۲/۱۹۱)۔

حقیقت میں مسجد کی آبادی اس میں نماز، اطاعت، اعتکاف اور دیگر بدنی و قولی عبادتوں کے بجا لانے سے ہے۔ اجروثواب کے حصول کے لیے پاک کمائی کو مسجد بنانے میں خرچ کرنا بھی اس کی آبادی میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر مساجد بنانے کی فضیلت بھی احادیث میں آئی ہے۔علمی دروس ، حفظ اورناظرہ کے دروس کا اہتمام بھی مسجد کی آبادی میں شامل ہے اور باعثِ ثواب ہے،البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ  مسجد عبادات مقصودہ کی ادائیگی کے لیے ہے اور عبادات غیر مقصودہ کی ادائیگی بھی ضمنا اس طور پر درست ہے کہ اصل  مقصد میں حرج یا خلل نہ ہو، لہذا  اوقات نماز کے علاوہ اوقات میں مسجد میں دینی تعلیم کا عمل جائز ہے، لیکن مکاتب  اور دروس کے عمل کے لیے یہ شرط بھی ہے کہ مسجد کی حرمت وادب متاثر نہ ہو ۔  پھربلامعاوضہ تعلیم و تدریس میں کوئی حرج نہیں ، البتہ مستقلاً تنخواہ یا اجرت لے کر مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم اور تدریس مکروہ ہے ،اس لیے بہتر یہی ہے کہ بچوں کی تعلیم کے لیے الگ جگہ کا انتظام کیا جائے ،لیکن اگر کوئی دوسری جگہ نہ ہو تو مجبوراً  مسجد میں بچوں کو دینی تعلیم دینےاور اس پر اجرت لینے کی گنجائش ہے ۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی کلامہ المجید(التوبۃ،18):

إِنَّما يَعمُرُ‌ مَسـاجِدَ اللَّهِ مَن ءامَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الاخِرِ‌.الآیۃ

سنن الترمذي (2/ 134):

عن عثمان بن عفان، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ‌من ‌بنى ‌لله ‌مسجدا بنى الله له مثله في الجنة.

ردالمحتار علی الدرالمختار(ج:6،ص:428،ط:سعید):

قلت: بل في التتارخانية عن العيون جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره

إلا لضرورة۔

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب