| 87589 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
ایک شخص اپنی دوبیویوں کا نام لےکرکہتا ہے کہ "اے فلاں فلاں تم دونوں مجھ پر تین طلاقوں پر طلاق ہو،" اس شخص کو دماغی دورے اور گردے کی بیماری لاحق ہے، جب اس کو دماغی دورہ پڑتا ہے تو عموماً گھروالے اس سے چھری بندوق وغیرہ چھپا لیتے ہیں، تاکہ کسی کو زخمی نہ کر پائے۔ دماغی دورہ پڑنے پر جو لوگ اس کے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، یہ انہی کو اپنا دشمن سمجھنے لگ جاتا ہے، یادر ہے کہ اس نےدماغی دورہ كی حالت میں دونوں بیویوں کو طلاق دی، اس وقت دماغی دورہ کی حالت کی گواہی اس کا ایک بھائی اور والد ہ بھی دیتی ہیں، ڈاکٹر سے علاج بھی جاری ہے ،وہ نفسیاتی ہسپتال میں زیر علاج ہے، پر دے کا بہت پابند ہے، بیماری میں بھی دونوں بیویوں کو بغیر پردے کے گھر سے باہر نہیں نکالا ،جب تبلیغ پر گیا تھا تو وہاں سے بھی کالز آتی تھیں کہ اپنےبندے کو لے جاؤ، کچھ کھاتا پیتا نہیں، بس ایک ہی جگہ پر تین چار گھنٹے بیٹھارہتا ہے۔ آپ سے اس مسئلے کا حکم مطلوب ہے، جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ جب ان کو دورہ پڑتا ہے اسی وقت پاگلوں والی حرکات کرتے ہیں، عام حالات میں وہ صحیح بات کرتے ہیں، البتہ نفسیاتی ڈاکٹر سے علاج مستقل چل رہا ہے، نیز اس کی دونوں بیویاں بھی موقع پر موجود تھیں، ان کا کہنا بھی یہی ہے کہ اس وقت اس کی دماغی حالت درست نہیں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جس شخص پر کبھی کبھار جنون کی حالت طاری ہو اس کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے صراحت کی ہے کہ حالتِ صحت میں اس کے تمام افعال اور تصرفات معتبر شمار ہوتے ہیں اور حالتِ جنون میں اس کے اقوال وافعال شرعاً معتبر نہیں ہوتے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتا شخصِ مذکور نے دماغی دورہ پڑنے کی حالت میں طلاق دی ہے، جس پر اس کا بھائی، اس کی والدہ اوردونوں بیویاں بھی گواہی دے رہی ہیں تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر دونوں بیویوں کو اس کی ایسی حالت کا یقین یا ظنِ غالب ہو تو ان پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور اگر بالفرض اس کی ایسی حالت پر اطمینان نہ ہو تو اس سے حلفیہ بیان لے لیں کہ واقعتاً اس نے دماغی دورہ کی حالت میں یہ الفاظ ادا کہے ہیں، پھر اگر دونوں بیویوں کو اس کے بیان پریقین ہو جائے تو بھی اس کی بیویوں پر ان الفاظ سے طلاق کے وقوع کا حکم نہیں لگے گا۔
حوالہ جات
الاختيار لتعليل المختار (4/ 149) الناشر: مطبعة الحلبي – القاهرة:
ومن يجن ويفيق ففي حال جنونه له أحكام المجانين، وفي حال إفاقته أحكام العقلاء، وردة السكران ليست بشيء استحسانا، وإسلامه صحيح لأنه يحتمل أن يكون عن اعتقاد أو لا.
الأصل للشيباني ط قطر (4/ 553) الناشر: دار ابن حزم، بيروت:
وإذا خلع المعتوه امرأته أو طلقها فذلك باطل لا يجوز، وهو بمنزلة الصبي في ذلك، وهي امرأته. وكذلك المجنون الذي يجن ويفيق إذا فعل ذلك في حال جنونه. وإذا فعل ذلك في حال إفاقته فهو جائز عليه. وكذلك المغمى عليه من مرض أو ذهاب عقل من مرض أو غيره فإنه لا يجوز عليه خلع ولا طلاق.
المبسوط للسرخسي (9/ 98) الناشر: دار المعرفة – بيروت:
والذي يجن ويفيق في حال إفاقته كغيره من الأصحاء يلزمه الحد بالزنا في هذه الحالة سواء أقر به أو شهد عليه الشهود.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
20/ذوالقعدة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


