03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل میں فلمیں دیکھنا اور قرآن پاک کی تلاوت کرنا
86454جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

1۔آج کل موبائل فون کے استعمال سے بہت مسائل پیدا ہو رہے ہیں جو تمام انسانوں کے لیے سخت نقصان دہ ہیں، لہذا مجھے اس بارے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے وہ مسئلہ یہ ہے کہ جس موبائل فون میں قرآن شریف کی ایپلیکیشن ہو یا حدیث کی کتابیں ہوں یا پی ڈی ایف کی شکل میں مختلف اسلامی کتابیں موجود ہوں اور اسی موبائل فون کی اسکرین پر فلمیں گانے غیر محرم کی تصاویرہو  یا نہ چاہتے ہوئے بھی مختلف قسم کے تصویریں آجاتی ہیں اگر ارادی طور پر یا غیر ارادی طور پر بندہ اسکرین پر فلمیں گانے وغیرہ دیکھتا ہے اوراس موبائل میں قرآن شریف بھی ہو اس بارے میں کیا حکم ہے ایک مفصل فتوی جاری کریں۔

 2۔ میرے پاس جو موبائل ہے، میں اس میں قرآن مجید کی تلاوت کرتا تھا اور دوسری اسلامی کتابیں بھی اس میں موجود تھی میں نے اس موبائل میں فحش فلمیں دیکھی ہیں  تو کیا اس سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج تو نہیں ہو جاتا ؟ میں نے ایک جگہ فتوی پڑھا تھا وہاں پہ لکھا تھا کہ فلم گانے اور اسی موبائل میں قران شریف رکھنا بے ادبی ہے میں نے سچے دل سے توبہ کر لی ہے امید ہے اللہ نے میری توبہ قبول کر لی ہوگی مہربانی فرما کر میری رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ میں بہت شرمندہ ہوں اور اللّٰہ تعالیٰ سے معافی کا طلبگار ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

موبائل میں قرآن پاک کی تلاوت کرنا درست ہے ،البتہ قرآن پاک   کی تلاوت مصحف میں باقاعدہ  دیکھ کرنے میں زیادہ ادب ہے اس کا اہتمام کرنا چاہیے،تاہم اگر میسر نہ ہو تو موبائل میں دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں۔

فلمیں دیکھنا اور گانے سنناگناہ  ہے، اس سے  مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ جس موبائل میں قرآن پاک اور دیگر اسلامی کتابیں ہوں اس کو ان چیزوں سے پاک کرنا ادب کا بھی تقاضہ ہے۔

آپ نے جو موبائل میں فلمیں دیکھی ہیں اس  پر توبہ واستغفار کرناچاہیے ،تاہم اس  سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

قال الله تعالى: { قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ}[النور:30]

اللغة والنحو نوع واحد فيوضع بعضها فوق بعض، والتعبير فوقهماوالكلام فوق ذلك، والفقه فوق ذلك، والأخبار والمواعظ والدعوات المروية فوق ذلك، والتفسير فوق ذلك، والتفسير الذي فيه آيات مكتوبة فوق كتب القراء. حانوت أو تابوت فيه كتب فالأدب أن لا يضع الثياب فوقه

(الفتاوى الهندية:(324/5

محا لوحا يكتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز. حانوت أو تابوت فيه كتب فالادب أن يضع الثياب فوقه.(البحر الرئق:(213/1

انس رشید ولد ہارون رشید

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

17/رجب المرجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

انس رشید ولد ہارون رشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب