| 86556 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
]السلام علیکم! میں 19 سال کا ہوں ۔ابھی تک میری مکمل داڑھی نہیں آئی۔ البتہ میری قلمیں کافی بڑی ہو گئی ہیں ، کان کے اوپر والے کنارے سے بال شروع ہو کر تقریبا چہرے کے آخر میں ختم ہوتے ہیں ۔ میری اس ہیئت پر لوگ میرا مذاق اڑاتے ہیں تو کیا ان بالوں کو کاٹنے کی کوئی گنجائش ہے؟ میں نے انٹرنیٹ پر سنا تھا کہ قلموں کےکچھ بال بھی داڑھی میں شامل ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کانوں کے پاس جہاں سے جبڑے کی ہڈی شروع ہوتی ہےوہاں سےلے کر پورا جبڑا داڑھی کی حد ہے۔ اس حدود میں ایک مشت سے کم لمبائی کے بالوں کو کاٹنا شرعاًجائز نہیں ، ایسا کرنا گناہ ہےاور ایسا کرنے والاشخص فاسق ہوتا ہے۔ ان بالوں کو کنگھی سے درست کرتے رہیں ۔ لوگوں کا مذاق اڑانا بنیادی دینی تعلیمات اور شرعی احکام سے ناواقفی کا نتیجہ ہے ۔اس کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ خلیل احمد السھارنفوری رحمہ اللہ:قولہ:(وإعفاء اللحية) أي توفيرها، وإطالتها، وعدم الأخذ منها، وكان من عادة الفرس قص اللحية، فنهى الشارع عن ذلك. (بذل المجهود :12/ 225)
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله: (جميع اللحية) بكسر اللام وفتحها نهر، وظاهر كلامهم أن المراد بها الشعر النابت على الخدين من عذار وعارض والذقن. وفي شرح الإرشاد: اللحية الشعر النابت بمجتمع الخدين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن، يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض بحر.( رد المحتار: 1/ 100)
وقال العلامۃ ابن الھمام رحمہ اللہ:وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد.(فتح القدير: 2/ 348)
سعد امین بن میر محمد اکبر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
21/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سعد امین بن میر محمد اکبر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


