| 85203 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کچھ موبائل ایپس صرف گیمز کی صورت میں ہوتی ہیں،جیسے ٹیپ سویپ،اس میں کواڈیشن فیس نہیں دینی پڑتی،صرف اکاؤنٹ بنا کر سکے کو بار بار ٹیپ کرنا ہوتا ہےیا سکے کو پریس کرتے رہنے سے پوائنٹس بڑھتے ہیں ،کیا ایسی ایپس سے ارننگ کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کے شرعی طور پر جائز ہونے کی شرائط درج ذیل ہیں:
- وہ کھیل/گیم بذاتِ خود جائز ہو،اوراس میں غیر شرعی امور و غیر اخلاقی حرکات کا ارتکاب نہ ہو۔
- اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو، بے مقصد محض لہو لعب اور وقت گزاری کے لیے نہ ہو۔
- کھیل یا گیم میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ اس سے شرعی فرائض و حقوق میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔
رہی بات گیم کے ذریعے کمائی کی تو اس حوالے سے گیم کی تفصیلات حتمی طور پر واضح ہونے کے بعد شرعی حکم طے کیا جاسکتا ہے،البتہ عام طور پر اس طرح کی ایپلیکیشن میں جو طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے ،اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
ایپلیکیشن میں اکاؤنٹ بنانے کے بعد گیم کھیلنے کا حق مل جاتا ہے،جس کے بعد ایپلیکیشن میں ایک بٹن نما نظر آنے لگتا ہے ،جسے کلک کرتے رہنا ہوتا ہے،جتنی مرتبہ کلک کریں گے اتنے پوائنٹس ملتے رہیں گے،پھر ان پوائنٹس کو کرپٹو کوائنز میں تبدیل کرکے گیم کھیلنے والے کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیا جاتا ہے،جسے بعد میں کسی رائج پیپر کرنسی میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ہماری تحقیق کے مطابق اس طرح کےگیمز میں کھیلنے کی کوئی چیز حقیقتاً نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے موجودہ کوائینز کا کوئی عمومی استعمال ہوتا ہے،بلکہ فقط جعلی قبولیت کے اظہار (Hype creation)کے لیے مذکورہ ایپ کے آرگنائزر خود ہی یاکسی دوسرے ذریعے سے یہ کوائنز کسی رائج کرنسی میں کنورٹ کرکے دیتے ہیں،جبکہ شرعاً کسی چیز کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا جائز استعمال ہو،اس لیے کہ بالکل بے فائدہ چیز نہ تو خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی بیچی جا سکتی ہے،لہٰذا مذکورہ ایپس کے کوائنز یا ٹوکن کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
تکملة فتح الملهم، قبیل کتاب الرؤیا، (4/435) ط: دارالعلوم کراتشی:
فالضابط في هذا . . . أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش ولا المعاد حرام او مكروه تحريماً . . . وما كان فيه غرض ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة . . . كان حراماً أو مكروهاً تحريماً ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة و مصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله وحده وعن الصلاة و المساجد التحق ذلك بالمنهي عنه؛ لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهومكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه . . . و علي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياہ.
(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)
قال الحصكفي ؒ: "وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية."
علق عليه ابن عابدين ؒ: "(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل."
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۲۴.ربیع الثانی ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


