| 90950 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
ضروریات دین ،جن پر ایمان ہونا ضروری ہے ایک مومن یا مسلم کے لیے وہ کیا ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ضروریاتِ دین سے وہ تمام دینی امور مراد ہوتے ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی طور پر تواتر کے ساتھ ثابت ہوں، اور جن کا دین محمدی ہونا ہر خاص وعام کو بداہۃً معلوم ہو، یعنی ان کا حصول کسی خاص اہتمام اور تعلیم پر موقوف نہ ہو، بلکہ عام طور پر وہ امور مسلمانوں کو وراثتاً معلوم ہوجاتے ہوں، مثلاً:نماز،روزہ حج، زکوة کی فرضیت اور زنا،قتل،چوری ،شراب خوری وغیرہ کی حرمت وممانعت وغیرہ، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الأنبیاء ہونا،حشرونشر،جزاء سزا وغیرہ۔
ایسے تمام دینی امور جن کاثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی تواتر کے ساتھ منقول ہو ان کو "ضروریات دین" کہاجاتاہے،جوشخص اسلام کے ان قطعی وضروری احکام کا منکریا ان میں سے کسی ایک کامنکر ہو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے،خواہ وہ مسلمانوں کے گھرانے سے تعلق رکھتاہو اور نام بھی مسلمانوں جیساہو۔
مزید تفصیل کیلئے بہشتی زیور کے حصہ اول میں عقائد کا بیان،نیز "اسلام کے بنیادی عقائد " نامی رسالہ ملاحظہ کرلیں۔
حوالہ جات
"قال العلامة الکشمیری۔ رحمه اللہ۔ والمراد "بالضروریات علی ما اشتهر فی الکتب: ما علم کونه من دین محمد - صلی اللہ علیه وسلم - بالضرورة، بأن تواتر عنه واستفاض، وعلمته العامة، کالوحدانیة، والنبوة، وختمها بخاتم الأنبیاء، وانقطاعها بعدہ... وکالبعث والجزاء، ووجوب الصلاة والزکاة، وحرمة الخمر ونحوها، سمي: ضروریاً، لأن کل أحد یعلم أن هذا الأمر مثلاً من دین النبي - صلی اللہ علیه وسلم - ... فالضرورة فی الثبوت عن حضرة الرسالة، وفي کونه من الدین." (إکفار الملحدین فی ضروریات الدین،٠٣ المجلس العلمي)
عزیرولد انور خان
دار الافتاء جامعہ الرشید
13 /محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیر ولد انور خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


