| 90949 | نماز کا بیان | مسبوق اور لاحق کے احکام |
سوال
اس شخص کو اپنی نماز کیسے مکمل کرنی چاہیے، جو امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شامل ہو اور امام رکوع میں گیا ہوا ہو۔پھر جیسے ہی اس نے نیت باندھی اور رکوع میں جا رہا تھا تو اسے امام کے رکوع سے اٹھنے کا پتہ نہیں چلا (یعنی سب رکوع میں تھے تو دکھ رہا تھا نیت باند ھنے کے بعد کہ امام بھی رکوع میں ہے) ۔مگر جیسے ہی رکوع میں گیا تو بمشکل ایک بار سبحان ربی العظیم پڑھا اور امام نے سمع اللہ لمن حمدہ کہہ دیا۔اور اپنی مسجد کے امام صاحب کا پتہ ہے کہ وہ ہر رکن کو پہلے ادا کرتے ہیں اور تاخیر سے اللہ اکبر یا سمع اللہ لمن حمدہ وغیرہ کہتے ہیں تاکہ مقتدی پہل نہ کرے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے اگر امام کے رکوع سے سر اُٹھانے سے پہلے پہلے ایک لمحہ کے لیےبھی مقتدی نے امام کو رکوع میں پالیا ا گرچہ ایک تسبیح سے کم ہو، تو وہ اس رکعت کو پانے والا سمجھا جائےگا۔
لہذا صورت مسئولہ میں آپ کے نیت باندھنے کے بعد رکوع میں جاتے وقت امام چونکہ رکوع ہی میں تھے، اس لئے آپ کو یہ رکعت مل گئی ہے۔ لہذا اب آپ امام کے سلام پھیرنے کے بعد صرف ایک رکعت مزید اداء کرکے اپنی نماز مکمل کریں گے۔
حوالہ جات
"أدرك الإمام في الركوع فكبر قائما ثم شرع في الانحطاط وشرع الإمام في الرفع الأصح أن يعتد بها إذا وجدت المشاركة قبل أن يستقيم قائما وإن قل، هكذا في معراج الدراية".(الفتاوى الهندية، ٠١/١٢٠،دار الفكر)
"والقدر المفروض من الركوع أصل الانحناء والميل ،ومن السجود أصل الوضع، فأما الطمأنينة عليهما فليست بفرض في قول أبي حنيفة ومحمد". (بدائع الصنائع، ٠١/١٠٥، دار الفكر)
"وإن ركع المسبوق وسوى ظهره صار مدركاً للركعة قدر على التسبيح أو لم يقدر، وإن لم يقدر على تسوية الظهر في الركوع حتى رفع الإمام رأسه فاته الركوع".(المحيط البرهاني،٠٢/٢١١، دار الكتب العلمية)
عزیرولد انور خان
دار الافتاء جامعہ الرشید
13 /محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیر ولد انور خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


