| 86467 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھانے پینے کے مسائل |
سوال
مونو ڈائی گلیسرائیڈ کو کھانے میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ،ایسے کھانے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مونوڈائی گلیسرائیڈ غذائی اضافات (Food additive) میں سے ہے جو ایملسیفائر (ان اجزاء کو ملانے میں مدددیتا ہے جو آپس میں ملتے نہیں ہے جیسے تیل اور پانی ) کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ مونو ڈائی گلیسرائیڈ کی حلت و حرمت کا دارومدار اس کے مأخذ پر ہے۔اگر مونو ڈائی گلیسرائیڈ پودوں اورحلال مذبوحہ جانوروں سے حاصل کیا گیا ہے تو یہ حلال ہے۔اسی طرح اگر مونو ڈائی گلیسرائیڈ مصنوعی طریقے سے تیار کیا گیا ہے،اور وہ صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے تویہ بھی حلال ہے۔اور اگرمونوڈائی گلیسرائیڈ حرام جانور جیسے خنزیر ،چیر پھاڑ کرنے والے جانور وغیرہ یا حلال غیر مذبوحہ جانوروں سے حاصل کیا گیا ہے تو حرام ہے۔لہذا غذائی مصنوعات میں اگر پودوں اور حلال مذبوحہ جانوروں سےاخذ کردہ مونوڈائی گلیسرائیڈ استعمال کیا گیا ہے ،تو ایسی مصنوعات حلال ہیں اور اگر حرام جانوروں سے اخذ کردہ مونو ڈائی گلیسرائیڈ استعمال کیا گیا ہے ،تو ایسی غذائی مصنوعات استعمال کرنا جائز نہیں۔تاہم صارف کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر وہ مصنوعات حلال سرٹیفائیڈ ہیں، اسی طرح اگر کسی ملک کی اکثر آبادی مسلمانوں کی ہو اور پروڈکٹ ملکی اجزائے ترکیبی سے بنتی ہو تو جب تک کسی مصنوع کے بارے میں واضح طور پر معلوم نہ ہو کہ اس میں حرام اجزاء شامل ہیں ،اس وقت تک ان مصنوعات کو استعمال کرنا جائز ہے،زیادہ کھود کرید میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال الله تبارك وتعالى :حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل لغير الله به والمنخنقة والموقوذة والمتردية والنطيحة وما أكل السبع إلا ما ذكيتم.(المائدة:3)
قال العلامة السندي رحمه الله:أما المستأنس من البهائم فنحو الإبل والبقر والغنم يحل بالإجماع.وأما المتوحش نحو الظباء.....فحلال بإجماع المسلمين.(فاكهة البستان:485/1)
نباتات سب پاک اور حلال ہیں الایہ کہ مضر یا مسکر ہوں۔(طبی جوہر:102)
محمد فیاض بن عطاءالرحمن
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۸ رجب المرجب ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فیاض بن عطاءالرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


