03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسافت قصر کہاں سے شروع ہو گا ،اس کا حکم
86492نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

میلسی سے ملتان کا فاصلہ 90 کلومیٹر ہے، پہلے ہم جب بھی میلسی سے ملتان جاتے تھے تو نماز قصر پڑھتے تھے، لیکن اب کچھ عرصہ سے میلسی سے ملتان روڈ کی طرف آبادی 10کلومیٹر اور ملتان سے میلسی روڈ کی طرف آبادی تقریباً 15کلومیٹر بڑھ چکی ہے، اب میلسی کی آبادی سے نکلنے کے بعد ملتان کی آبادی میں داخل ہونے تک تقریباً 65کلومیٹر بنتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ گھر سے گھر تک کا فاصلہ شمار کیا جائے گا؟ یا تھانے سے تھانے تک کا؟ اب میلسی سے ملتان جاتے ہوئے ہم پوری نماز پڑھیں یا قصر پڑھیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسافت سفر کی ابتدا کا اعتبار اپنے علاقے (شہر / گاؤں) کی حدود سے ہو گا اور مسافت کی انتہا کا اعتبار جس شہر میں جانا ہے۔ اس کی ابتدائی حدود تک ہو گا۔ لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے گاؤں (میلسی ) سے لے کر ملتان تک مسافت سفر مکمل نہیں ہے ، تو سائل میلسی سے ملتان جانے کی صورت میں مسافر نہیں ہو گا،لہذانماز پوری اداء کرنی ہو گی قصر جائز نہیں۔

حوالہ جات

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (1/ 93): «وأما بيان ما يصير به المقيم مسافرا: فالذي يصير المقيم به مسافرا نية مدة السفر والخروج من عمران المصر فلا بد من اعتبار ثلاثة أشياء:» «بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (1/ 94): «الخروج من عمران المصر فلا يصير مسافرا بمجرد نية السفر ما لم يخرج من عمران المصر وأصله ما روي عن علي رضي الله عنه أنه لما خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خص أمامه وقال: لو جاوزنا الخص صلينا ركعتين ولأن النية إنما تعتبر إذا كانت مقارنة للفعل؛ لأن مجرد العزم عفو، وفعل السفر لا يتحقق إلا بعد الخروج من المصر» «المبسوط» للسرخسي (1/ 236): «فإذا قصد مسيرة ثلاثة أيام ‌قصر ‌الصلاة حين تخلف عمران المصر؛ لأنه مادام في المصر فهو ناوي السفر لا مسافر، فإذا جاوز عمران المصر صار مسافرا لاقتران النية بعمل السفر، والأصل فيه حديث علي - رضي الله تعالى عنه - حين خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خص أمامه فقال: لو جاوزنا ذلك الخص صلينا ركعتين.» «المحيط البرهاني» (2/ 54): «وقال شمس الأئمة الحلواني رحمه الله: والصحيح من الجواب أنه يعتبر فيه مخالطة البنيان ومفارقتهما، فما دام مخالطا للبنيان لا يتطوع على الدابة وإذا فارق البنيان فقد خرج من المصر، فيجوز له التطوع على الدابة وهو قياس ‌قصر ‌الصلاة للمسافر،»

زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

15 /رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب