03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رقوم کی منتقلی میں پر اجرت لینے کا حکم
86137جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص کراچی سے کوہاٹ رقم بھیجنا چاہتا ہے،چنانچہ یہاں موجود دکاندار اس سے رقم لیتا ہے اور کوہاٹ میں اپنے جاننے والے دوسرے دکاندار سے کہہ دیتا ہے کہ وہ متعلقہ بندے کو اتنی رقم دے دے،اس پر بھیجنے والے سے فی ہزار دس یا پانچ روپیہ چارج کیا جاتاہے،کمپنی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں زید اور بکر کے لیے رقم منتقل کرنے والے سے اضافی رقم وصول کرنا جائز ہے،کیونکہ مذکورہ معاملہ حقیقت میں دو عقود پر مشتمل ہے،ایک قرض کا حوالہ اور دوسرا رقم کی منتقلی پر اجارہ،کیونکہ رقم بھیجنے والا زید اور بکر میں سے جسے بھی رقم دیتا ہے وہ قرض ہوتی ہے،اس لئے کہ وہی رقم بعینہ آگے نہیں پہنچائی جاتی،بلکہ اس کی جگہ دوسری رقم دی جاتی ہے،چنانچہ زید اور بکر میں سے جس کو جو رقم دی جاتی ہے وہ اس کی ادائیگی دوسرے کو حوالہ کرتا ہے اور اس پر وہ متعلقہ افراد سے جو اضافی رقم وصول کرتے ہیں وہ رقم کی منتقلی کی اجرت ہوتی ہے جس کے لینے میں شرعا کوئی حرج نہیں،کیونکہ یہ قرض پر نفع نہیں،بلکہ ان کی محنت کی اجرت ہے۔

البتہ اس معاملے میں حوالہ کے ساتھ اجارہ کی شرط لازم آتی ہے،لیکن وہ تعامل اور عرف کے وجہ سے جائز ہوگی،اسی طرح سقوط خطر الطریق )یعنی خود لے جانے کی صورت میں راستے میں اس رقم کے چوری یا چھن جانے کے خدشے کا ختم ہوجانا(بھی لازم آتا ہے،لیکن چونکہ وہ مقصود نہیں،بلکہ مقصود رقم کی منتقلی ہے،اس لیے مذکورہ طریقے سے کاروبار کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار (5/ 340)

"الحوالة (هي) لغة النقل، وشرعا: (نقل الدين من ذمة المحيل إلى ذمة المحتال عليه) وهل توجب البراءة من الدين المصحح نعم فتح..... (وتصح في الدين) المعلوم (لا في العين  ...

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:(قوله: وتصح في الدين) الشرط كون الدين للمحتال على المحيل، وإلا فهي وكالة لا حوالة، وأما الدين على المحال عليه فليس بشرط أفاده في البحر".

"الدر المختار"(5/ 86):

" (فيصح) البيع (بشرط يقتضيه العقد) (كشرط الملك للمشتري) وشرط حبس المبيع لاستيفاء الثمن (أو لا يقتضيه ولا نفع فيه لأحد) ولو أجنبيا ابن ملك..... (أو لا يقتضيه لكن) يلائمه كشرط رهن معلوم وكفيل حاضر ابن ملك، أو (جرى العرف به كبيع نعل) أي صرم سماه باسم ما يئول عيني (على أن يحذوه) البائع (ويشركه) أي يضع عليه الشراك".

"تکملة عمدة الرعایة" (2/ 119):

"ویجب ان یعلم ان التی فی زمانا المسماة فی لساننا) بھندی،منی آرڈر( لیس من ھذا؛ لان السفاتج کانت لسقوط خطر الطریق وذاللوصول.

فان قلت :علة الکراھة ھی النفع سواء کان لسقوط خطر الطریق او للوصول؟

 قلت: بلی ولکن الخطر مما لایجوز الکفالة بہ ولا اجر علیہ؛ لانہ لیس فی وسع الانسان الا دفع اللصوص والحفظ انما بفضل اللہ تعالی واماالایصال تحل الاجرة علیہ ویمکن العھدة علیہ فلا یلزم من النھی عن نفع سقوط الخطر کراھة اجرة الایصال".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

01/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب