| 86136 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
ہم ٹیلی نار یا جاز بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں جو رقم جمع کراتے ہیں،کمپنی اس رقم کو جائز و ناجائز کے فرق کے بغیر ہر قسم کے لین دین کے لئے استعمال کرتی ہے،کیا اس کا گناہ ہمارے سر بھی ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ اب پیسوں کو محفوظ رکھنے کے لئے غیر سودی بینک موجود ہیں،اس لئے ایسے اداروں کے اکاؤنٹ میں رقم رکھنے سےگریز کرنا چاہیے جو آپ کی رقم کو سودی معاملات میں استعمال کریں،تاہم اگر کہیں غیر سودی بینک کی سہولت میسر نہ ہو تو وہاں کے لوگوں کے لئے بوقتِ ضرورت اس کی گنجائش ہوگی۔
حوالہ جات
"تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق " (ج 16 / ص 423) :
"قال رحمه ﷲ : ( وحمل خمر لذمي بأجر ) أي جاز ذلك أيضا ، وهذا عند أبي حنيفة رحمه ﷲ ، وقالا هو مكروه ؛ لأنه عليه الصلاة والسلام لعن في الخمر عشرة ، وعد منها حاملها ، وله أن الإجارة على الحمل ، وهو ليس بمعصية ، ولا تسبب لها ، وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار ، وليس الشرب من ضرورات الحمل ؛ لأن حملها قد يكون للإراقة أو التخليل فصار كما لو استأجره لعصر العنب أو قطفه ، والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية ، وعلى هذا الخلاف إذا آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير فإنه يطيب له الأجر عند أبي حنيفة رحمه ﷲ ، وعندهما يكره".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
01/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


