03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی کے موقع پر دلہن کو پہنائےگئے زیور کا حکم
86686نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

میرے والد صاحب کی کوئی 23 سال پہلے شادی ہوئی تھی،جس طرح ہمارے کلچر میں خواتین کو زیور پہنایا جاتا ہے،اسی طرح ان کی بیوی(سابقہ) کو بھی کچھ زیور پہنا دیا گیا،اس وقت یہ تصریح نہیں کی گئی کہ یہ بطور ہبہ ہے یا عارضی استعمال کے لئے،بس شادی کے موقع پر انہیں پہنادیا گیا تھا،چند ماہ بعد علیحدگی ہوگئی تو لڑکے والوں نے زیور مانگا کہ یہ ہمارا زیور ہے،ہمیں واپس کریں تو لڑکی نے کہا:آپ شرعاً نہیں لے سکتے،لڑکے والوں کے پاس ان کی کوئی کمیٹی تھی تو انھوں نے کہا زیور دیں گے تو یہ ملے گی،چنانچہ زیور لڑکے والوں کو دے دیا گیا۔

پھر لڑکی والوں نے مصالحتی کونسل میں کیس کیا،ساری کاروائی لڑکے نے قرآن پہ حلف اٹھاکر چلوائی،کونسل نے لڑکی کو کہا کہ اب طلاق ہوگئی تو آپ رہنے ہی دیں،کیا کرنا ہے؟یعنی کوئی واضح فیصلہ نہیں دیا، بلکہ مصالحت کی کوشش کی،فریقین مان گئے،البتہ یہ بات واضح نہیں کہ لڑکی خود زیور دینے پر راضی تھی،یا نہیں۔

لڑکے  نے دوبارہ شادی کی اور وہی زیور دوسری لڑکی کو پہنادیا ،اسے یہ بتائے بغیر کہ زیور کا کیا معاملہ تھا،وہ زیور اب موجودہ بیگم کے پاس ہے اور اب وہ مسئلہ معلوم کرنا چاہ رہی ہیں،ان کے بقول اب تک انہیں اس زیور کے حوالے سے اس معاملے کا پتہ نہیں تھا۔

آج کئی سال بعد وہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ اب وہ کیا کریں؟جبکہ فی الحال ان کے پاس علیحدہ سے زیور دینے کی گنجائش نہیں اور وہ زیور وہ موجودہ بیوی کو دے چکے تو اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟کیا موجودہ بیوی سے زیور لے کر ان کو واپس کریں؟ اور کیا ایسا کرنے کے لئے موجودہ بیگم کی اجازت بھی ضروری ہے؟اور یہ زیور موجودہ بیگم کی ملکیت کہلائے گا؟

تنقیح: سائل نے بتایا کہ دیتے وقت ملکیت یا عاریت کی کوئی تصریح نہیں ہوتی،لیکن دینے کے بعد بیوی سے واپس نہیں لیا جاتا اور بہ ظاہر ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر تملیک کی تصریح کے بغیر دلہن کو دیئے جانے والے زیور کے حوالے سے عرف کا اعتبار ہوتا ہے،یعنی اگر خاندان میں اس موقع پر دیا جانے والا زیور ہبہ سمجھاجاتا ہو تو اس پر ہبہ کے احکام لاگو ہوں گے اور اگر عاریت سمجھا جاتا ہو تو پھر اس پر عاریت کے احکام لاگوں ہوں گے۔

آپ کی وضاحت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہاں اس طرح دیا جانے والا زیور ہبہ کے طور پر دیا جاتا ہے،اس لئے اس زیور پر ہبہ کے احکام لاگو ہوں گے،یعنی یہ زیور دلہن کی ملکیت میں داخل ہوجائے گا اور طلاق کے بعد اس سے واپس لینا جائز نہیں ہوگا،اس لئے طلاق کے بعد سابقہ بیوی کو دیا گیا زیور اس سے واپس لینا جائز نہیں تھا۔

لہذا اگر یہ زیور اب بھی اسی حالت پر موجود ہے تو اسے سابقہ بیوی کے حوالے کرنا لازم ہے اور بصورت دیگر (یعنی جب زیور سابقہ حالت میں موجود نہ ہو)سابقہ بیوی کو اس جیسا زیور بنواکر دینا لازم ہے،البتہ باہمی رضامندی سے اس کی موجودہ قیمت یا اس سے کم و بیش بھی دی جاسکتی ہے،جبکہ موجودہ بیوی کو بھی اصولی طور پر اس جیسا زیور بنواکر دینا لازم ہے،البتہ کسی قسم کے جبر اور اکراہ کے بغیر باہمی رضامندی سےاس کی موجودہ قیمت،یا کم و بیش بھی دی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (3/ 151):

"(ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله: لشمع أو حناء،ثم قال: إنه من المهر، لم يقبل .قنية؛ لوقوعه هدية فلا ينقلب مهرا. (فقالت :هو) أي المبعوث (هدية وقال :هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها، فإن حلف والمبعوث قائم فلها أن ترده وترجع بباقي المهر. ذكره ابن الكمال. ولو عوضته ثم ادعاه عارية فلها أن تسترد العوض من جنسه. زيلعي. (في غير المهيإ للأكل) كثياب وشاة حية وسمن وعسل وما يبقى شهرا.أخي زاده.

 (و) القول (لها) بيمينها (في المهيإ له) كخبز ولحم مشوي؛ لأن الظاهر يكذبه، ولذا قال الفقيه: المختار أنه يصدق فيما لا يجب عليه كخف وملاءة ،لا فيما يجب كخمار ودرع، يعني ما لم يدع أنه كسوة؛ لأن الظاهر معه.

قال العلامة ابن عابدین رحمہ ﷲ  :"(قوله: لأن الظاهر يكذبه) قال في الفتح: والذي يجب اعتباره في ديارنا أن جميع ما ذكر من الحنطة واللوز والدقيق والسكر والشاة الحية وباقيها يكون القول فيها قول المرأة؛ لأن المتعارف في ذلك كله أن يرسله هدية والظاهر معها لا معه، ولا يكون القول إلا في نحو الثياب والجارية. اهـ.

قال في البحر: وهذا البحث موافق لما في الجامع الصغير، فإنه قال: إلا في الطعام الذي يؤكل فإنه أعم من المهيأ للأكل وغيره اهـ. قال في النهر: وأقول: وينبغي أن لا يقبل قوله أيضا في الثياب المحمولة مع السكر ونحوه للعرف. اهـ.

 قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا .(قوله :ولذا قال الفقيه) أي أبو الليث. (قوله :كخف وملاءة)؛ لأنه لا يجب عليه تمكينها من الخروج، بل يجب منعها إلا فيما سنذكره. فتح.

قلت: ينبغي تقييد ذلك بما لم تجر به العادة لما حررناه من أن ذلك في عرفنا يلزم الزوج وأنه من جملة المهر كما قدمناه عن الملتقط أن لها منع نفسها للمشروط عادة كالخف والمكعب وديباج اللفافة ودراهم السكر إلخ ".

"القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة "(1/ 345):

القاعدة: [49] المعروف عرفًا كالمشروط شرعًا.

التوضيح: إن المعروف المعتاد بين الناس، وإن لم يذكر صريحاً، فهو بمنزلة الصريح لدلالةالعرف عليه؛ لأن المعروف عرفاً كالمشروط شرعاً، وفي كل محل يعتبر ويراعى فيه، شرعاً صريح الشرط المتعارف، وذلك بألَّا يكون مصادماً للنص بخصوصه، إذاتعارفه الناس، واعتادوا التعامل عليه بدون اشتراط صريح، فهو مرعي، ويعتبر بمنزلة الاشتراط الصريح؛ لأن العادة محكمة. وهذا رأي الجمهور من الحنفية والمالكية والحنابلة".

"البحر الرائق " (7/ 294):

"(قوله: والزاي الزوجية) أي الزوجية مانعة من الرجوع ؛لأن المقصود فيها الصلة أي الإحسان كما في القرابة.....

 (قوله :فلو وهب ثم نكح رجع وبالعكس لا) أي لو نكح ثم وهب لا يرجع؛ لأن المعتبر حالة الهبة وفي الأول لم تكن منكوحة بخلاف الثاني ولهذا لو أبانها بعد الهبة لم يكن له أن يرجع فيها".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

26/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب