03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کپڑے یا کنڈوم کے ہوتے ہوئے اورل سیکس (Oral Sex)کا حکم
86684جائز و ناجائزامور کا بیانعورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام

سوال

اب تک علماء کے بیانات سے یہ پتہ چلا ہے کہ اورل سیکس (Oral Sex)یعنی جنسی اجزاء کو منہ لگانا اور اور منہ کے ذریعے اس سے لذت لینا شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔ ایک سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ اپنی زوجہ کو ورغلانے یا پیار کرنے کے لیے یا کچھ لذت لینے کے لیے، جب کپڑے پہنے ہوئے ہوں ،جیسے کہ شلوار پہنی ہوئی ہو، تو آیا ایسی صورت میں  اپنی زوجہ یا شوہر کےا عضا کو منہ لگانا صحیح ہے یا نہیں ؟ یعنی جب انسان نے شلوار قمیض پہنی ہو اور شلوار کے اوپر سے ہی اس طرح اعضاء کو منہ لگایا جائےکہ حقیقتاً وہ عضو ڈائریکٹ یا بلاواسطہ ٹچ نہ ہوتا ہو، تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ ایک اور سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ مختلف قسم کے ذائقوں والے کنڈومزCondom( یعنی احتیاط کے طور پر استعمال ہونے والے غبارے)اور ان سے جڑی باتیں سننے میں آتی ہیں، جس سے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ آیا کنڈوم کے ساتھ بھی اعضاء کو منہ لگانا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں جماع کے کچھ آداب ہیں، مثلاً: بقدر ضرورت ستر کھولا جائے ،اس وقت شرمگاہ پر نظر نہ کی جائے، بالکل جانور کی طرح ننگا ہوکر جماع نہ کیا جائے اور اورل سیکس میں ان آداب کی رعایت ناممکن ہے، پھر زبان جس سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ،اس سے شرمگاہ کا بوسہ وغیرہ لینا کسی بھی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتا،اگرچہ کپڑے یا کنڈوم کے ہوتے ہوئے یہ عمل کیا جائے ، اس لیے بہرصورت ایک مسلمان کے لئے  اس سے اجتناب لازم ہے ،پس غیر فطری طریقہ کو اختیار کرنے کے بجائے تسکینِ شہوت کے لیے فطری طریقہ ہی  اختیار کرنا چاہیے ۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 408):

إذا أدخل الرجل ذكره فم أمرأته فقد قيل: يكره؛ لأنه موضع قراءة القرآن، فلا يليق به إدخال الذكر فيه، وقد قيل بخلافه.

الموسوعۃالفقہیۃ الکویتیۃ(جلد ۳۲ ص : ۹۱ ط : وزارۃ الاوقاف و الشئون الاسلامیة ۔ الکویت):

لمس ‌فرج ‌الزوجة: اتفق الفقهاء على أنه يجوز للزوج مس فرج زوجته. قال ابن عابدين: سأل أبو يوسف أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا؟ قال: لا، وأرجو

أن يعظم الأجر  .وقال الحطاب: قد روي عن مالك أنه قال: لا بأس أن ينظر إلى الفرج في حال الجماع، وزاد في رواية: ويلحسه بلسانه، وهو مبالغة في الإباحة، وليس كذلك على ظاهره .

وقال الفناني من الشافعية: يجوز للزوج كل تمتع منها بما سوى حلقة دبرها، ولو بمص بظرها وصرح الحنابلة بجواز تقبيل الفرج قبل الجماع، وكراهته بعده.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2641):

 ويجوز الاستمتاع بها فيما بين الأليتين، لقوله تعالى: {إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين} [المؤمنون:6/ 23] ويجوز وطؤها في القبل مدبرة لقول جابر: «يأتيها من حيث شاء مقبلة أو مدبرة إذا كان ذلك في الفرج».

وربما كان أسوأ من الدبر: وضع الذكر في فم المرأة ونحوه، مما جاءنا من شذوذ الغربيين، فيكون ذلك حراماً لثبوت ضرره وقبحه شرعاً وذوقاً.

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

27/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب