| 86334 | جنازے کےمسائل | جنازے کے متفرق مسائل |
سوال
نمازجنازہ میں بعض لوگ چپل پہن کرنماز ادا کرتے ہیں اور بعض لوگ چپل پاؤں سے نکال کر ان چپلوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں ، کیا اس طرح نماز پڑھنا درست ہے یا چپل بالکل اتار کر علیحدہ رکھنے ضروری ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر چپل یا جوتے پاک ہوں اور ان پر کوئی نجاست نہ لگی ہو، تو ان کو پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ اور اگر چپل یا جوتے پر نجاست لگی ہو اور وہ صرف ان کے نچلے حصے میں ہو، تو اس صورت میں جوتے یا چپل اتار کر ان کے اوپر پاؤں رکھ کر نماز ادا کی جا سکتی ہے۔البتہ اگر نجاست جوتے یا چپل کے اوپر والے حصے پر لگی ہو اور اس کی مقدار معاف مقدار سے زیادہ ہو، تو ان کو پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں جوتے یا چپل کو ہٹانا ضروری ہے۔
حوالہ جات
«المحيط البرهاني» (1/ 283):
وفي «القدوري» لو كانت على بطانة مصلاه أو في حشوها جازت الصلاة عليها، بخلاف ما إذا كانت النجاسة في حشو جبته، وإذا صلى على موضع نجس وفرش نعليه وقام عليهما جاز، ولو كان لابساً لهما لا يجوز لأنهما يكونان تبعاً له حينئذٍ.
«حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح» (ص582):
«ولو افترش نعليه وقام عليهما جاز فلا يضر نجاسة ما تحتهما لكن لا بد من طهارة نعليه مما يلي الرجل لا مما يلي الأرض
جمیل الرحمن
دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
11/رجب 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


