03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواتین کا بیرون ملک کاروباریا پڑھائی کیلۓ جانا
86220جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میری ایک بہن ہے جو کنواری ہے اور اس کی عمر 26 سال ہے ،اور نہایت پردے والی ہے، ہم اس کا رشتہ تلاش کر رہے ہیں مگر ابھی رشتہ مل نہیں رہا۔ وہ کہ رہی ہے کہ وہ کسی بیرون ملک میں اکیلی نوکری یا مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس پر والدین اور بھائی کی جانب سے شدید مخا لفت اور ناراضگی ہے۔ کہ ان حا لات میں بیرون ملک اکیلی اورغیرشادی شدہ لڑکی کا رہنا ٹھیک نہیں، اور اس میں والدین کی رضا بھی شامل نہیں۔ کیا میری بہن کا بیرون ملک جانے کا مطالبہ شرعا جائز ہے یا نہیں؟ اگروہ والدین پر زبردستی کرکے  اپنے باہر جانے کا مطالبہ منواے تو کیا  یہ شرعا ناجائز ہے اور وہ کیا گہنگار ہوگی؟ اور والدین اس کی رضا کے مطابق ہی رشتہ تلاش کررہے ہیں، مگر پھر بھی وہ بیرون ملک مطالبہ کر رہی ہے ،براہ کرم اس پر وضاحت فرمائیں اور اصلا حی نوٹ بھی لکھ دیں تاکہ میں اس فتوی کا جواب اور اصلا حی نوٹ اپنی بہن کودکھا سکوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت     میں  عورت کو پردہ میں رہنے کی بہت تاکید   کی  گئی ہے ،اور اس کا اپنے گھر سے نکلنے کو سخت نا پسند کیا گیا ہے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے معاملہ میں بھی یہ پسند فرمایا کہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھیں اور اسی کی ترغیب دی ہے  ، نیزا   ُس کا نفقہ اس کے والد یا شوہر پر لازم کیا ہے تاکہ   کمانے کی غرض سے بھی عورت کو  گھر سے باہر نکلنے کی حاجت پیش نہ آئے، شادی سے پہلے اگر اُس کا اپنا مال نہ ہو تو اس کا نفقہ اس کے باپ پر لازم ہے اور شادی کے بعد اس کا نفقہ اس کے شوہر پر لازم کیا ہے، لہذا کمانے کے لیے بھی عورت کا اپنے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔البتہ اگر کسی خاتون کی شدید مجبوری ہو اور کوئی دوسرا کمانے والا نہ ہو اور اس کے پاس اپنا مال بھی نہ ہوتو ایسی صورت میں عورت کے گھر سے نکلنے کی گنجائش ہو گی، لیکن اس میں بھی یہ ضروری ہے کہ عورت مکمل پردے کے ساتھ گھر سے نکلے،اپنے علاقے میں ہی کام کرے ، کسی نا محرم سے ضرور ت سے زائد  بات چیت نہ ہو،  ایسی ملازمت اختیار نہ کرے جس میں کسی کے ساتھ تنہائی حاصل ہوتی ہو۔

 لڑکیوں کاتعلیم حاصل کرنا    بذات خود ناجائز نہیں ہے، بلکہ شرعی حدود اور اصولوں کے اندر رہتے ہوئے ضروری  علوم کا حصول نہ صرف جائز بلکہ پسندیدہ عمل ہے۔  البتہ ملک سے باہر تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں کئی دینی، اخلاقی مفاسد بھی موجود ہیں  ، اس لیے کسی لڑکی کے لیۓ بیرون ملک جا کر تعلیم حاصل کرنا  شرعا جائز نہیں  ۔

اس کے علاوہ کسی عورت کے لیے محرم کے بغیر مسافت شرعی کی مقدار میں سفر کرنا  بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ حضورﷺ نے فرمایا ہے  کہ "کوئی عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے, جو کہ اڑتالیس میل (سوا ستتر  کلو میڑ) بنتا ہے ۔ اسی طرح بیرون ملک معاشروں میں اکثر ایسے ماحول کا سامنا ہوتا ہے جہاں اسلامی اقدار اور شرم و حیا کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ ایسے معاشروں میں لڑکیوں کے لیے  مشکلات  زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں مختلف ثقافتوں، آزادیوں، اور غیر اسلامی روایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لادینی نظریات کی ترویج والے تعلیمی ماحول میں دینی عقائد پر شکوک پیدا ہونے یا دین سے دوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ غیر اسلامی معاشرتی اثرات ان کی دینی اقدار، جیسے حیاء، حلال و حرام کی تمیز، اور شریعت پر عمل کے جذبے کو کمزور کر  سکتے  ہیں۔ مرد و خواتین کا آزادانہ میل جول اخلاقی خرابی کا باعث بنتا ہے، جس سے اسلامی معاشرتی اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے، اور عزت و عصمت ایک مسلمان مردو عورت کے لیۓ ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔لہذا کسی مسلم خاتون کے لیۓاکیلے ایسے معاشرے میں جاکرتعلیم حاصل کرنا کسی طرح جائز نہیں۔

حوالہ جات

تفسير ابن كثير :ج: 6 / ص: (44):

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ

"فقوله تعالى: { وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن } أي: عما حرم الله عليهن من النظر إلى غير أزواجهن. ولهذا ذهب [كثير من العلماء] إلى أنه لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى الأجانب بشهوة، ولا بغير شهوة أصلا. واحتج كثير منهم بما رواه أبو داود والترمذي، من حديث الزهري، عن نبهان -مولى أم سلمة -أنه حدثه: أن أم سلمة حدثته: أنها كانت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وميمونة، قالت: فبينما نحن عنده أقبل ابن أم مكتوم، فدخل عليه، وذلك بعدما أمرنا بالحجاب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "احتجبا منه" فقلت: يا رسول الله، أليس هو أعمى لا يبصرنا ولا يعرفنا؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أو عمياوان  أنتما؟ ألستما تبصرانه"  .

 (الصحیح لمسلم، 1/433، کتاب الحج، ط: قدیمی)

عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم.

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 368):

وفي الأشباه: ‌الخلوة ‌بالأجنبية حرام إلا لملازمة مديونة هربت ودخلت خربة أو كانت عجوزا شوهاء أو بحائل،

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (1/ 285):

ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا ‌صوت ‌المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها؛ لأن ذلك ليس بصحيح فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة.

بحوث في قضايا فقهية معاصرة» (ص339):

((لا تسافر المرأة فوق ثلاث إلا ومعها زوج أو ذو رحم محرم منها)) هذا الحكم الصريح قد أخذ به جمهور الفقهاء، حتى إنهم لم يجوزوا لها أن تسافر بدون محرم لضرورة الحج، ‌وأن ‌الدراسة ‌والعمل في البلاد الأجنبية ليس من ضرورة النساء المسلمات في شيء، إن الشريعة لم تأذن للمرأة بالخروج من دارها إلا لحاجة ملحة، وقد ألزم أباها وزوجها بأن يكفل لها بجميع حاجاتها المالية، فليس لها أن تسافر بغير محرم لمثل هذه الحوائج.

أما إذا كانت المرأة ليس لها زوج أو أب، أو غيرهما من أقاربها الذين يتكفلون لها بالمعيشة، وليس عندها من المال ما يسد حاجتها، فحينئذ يجوز لها أن تخرج للاكتساب بقدر الضرورة، ملتزمة بأحكام الحجاب، فيكفي لها في مثل هذه الحال أن تكتسب في وطنها، ولا حاجة لها إلى السفر إلى البلاد الأجنبية، ولو لم تجد بدا من السفر في وطنها من بلد إلى آخر، ولم تجد أحدا من محارمها، ففي مثل هذه الحالة فقط يسع لها أن تأخذ بمذهب مالك، والشافعي، حيث جوزوا لها السفر مع النساء المسلمات الثقات ۔

جمیل الرحمن

دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

06/رجب 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمن بن عبدالودود

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب