| 86342 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میری بہن اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے،لیکن شوہر کے گھر والے اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے،بہن کا سسر فوت ہوا تو وہ جنازے میں شرکت کے لئے جانا چاہتی تھی،لیکن اس کے شوہر نے راستے سے واپس کردیا،جب بہن نے تعزیت کے لئے میسج کیا تو اس نے یہ الفاظ کہے کہ: "آئندہ مجھے کال اور میسج نہ کرنا،میری طرف سے آزاد ہو"،اس پر شریعت کے لحاظ سے فتویٰ دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لفظِ "آزاد" اپنی اصل وضع کے لحاظ سے طلاق کےکنایہ الفاظ میں سےہے اور کنایہ الفاظ کی اس قسم میں سے ہے جس میں صرف جواب بننے کا احتمال ہے،یعنی قرینے(حالتِ غضب یا مذاکرہ طلاق) کی موجودگی میں اس قسم کے الفاظ سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
چونکہ مذکورہ صورت میں شوہر نےشدید ناراضگی کی حالت میں بیوی کو مذکورہ میسج بھیجا ہے،اس لئے اس کے ذریعےایک بائن طلاق واقع ہوچکی ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ اب اگر میاں بیوی دوبارہ ازدواجی زندگی میں منسلک ہونا چاہتے ہیں تو باہمی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا پڑے گا۔
لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جب لفظ "آزاد" آپ کے علاقے کے عرف میں بیوی کو طلاق دینے کے لئے اس طرح خاص نہ ہو جس طرح طلاق کا لفظ کہ شوہر جب بھی بیوی کے سامنے یہ لفظ بولے تو اس سے طلاق ہی کا معنی مراد لیا جاتا ہو،بلکہ یہ لفظ طلاق کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے بھی بیوی سے بولا جاتا ہو،مثلا نکاح برقرار رکھتے ہوئے بیوی کو اعمال وافعال کی آزادی دینا وغیرہ،اگر بالفرض آپ کے علاقے کے عرف میں یہ لفظ صرف بیوی کو طلاق دینے کے لئےہی بیوی کے سامنے بولا جاتا ہوتو پھر مذکورہ صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہوگی،جس کے بعد عدت کے دوران شوہرتجدیدِ نکاح کے بغیر بیوی سے زبانی یا عملی طور پر رجوع کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ وقوع طلاق کی دونوں صورتوں میں میاں بیوی کے دوبارہ ازدواجی رشتے میں منسلک ہونے کی صورت میں شوہر کے پاس مزید صرف دوطلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 298):
"فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث :ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا .
(فنحو: اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي ،تخمري، استتري ،انتقلي، انطلقي ،اغربي، اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية ،برية، حرام، بائن) ومرادفها كبتة، بتلة (يصلح سبا، ونحو: اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري ،أمرك بيدك، سرحتك، فارقتك،لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما. مجتبى.
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا .(وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو؛ لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى لكونها ظاهرة".
قال ابن عابدین رحمہ اللہ :"(قوله: فنحو: اخرجي واذهبي وقومي) أي من هذا المكان لينقطع الشر فيكون ردا أو لأنه طلقها فيكون جوابا. رحمتي.....
(قوله: لا يحتمل السب والرد) أي بل معناه الجواب فقط ح أي جواب طلب الطلاق أي التطليق .فتح.
(قوله: توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب.
بيان ذلك :أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب؛لأنها وإن احتملت الطلاق وغيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والتبعيد والسب والشتم اللذين احتملتهما حال الغضب ،تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا، فلا يصدق في الصرف عن الظاهر، فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية كما في صريح الطلاق إذا نوى به الطلاق عن وثاق .
(قوله: يتوقف الأول فقط) أي ما يصلح للرد والجواب؛ لأن حالة المذاكرة تصلح للرد والتبعيد كما تصلح للطلاق دون الشتم وألفاظ الأول كذلك، فإذا نوى بها الرد لا الطلاق فقد نوى محتمل كلامه بلا مخالفة للظاهر فتوقف الوقوع على النية، بخلاف ألفاظ الأخيرين فإنها وإن احتملت الطلاق لكنها لا تحتمل ما تحتمله المذاكرة من الرد والتبعيد، فترجح جانب الطلاق ظاهرا فلا يصدق في الصرف عنه فلذا وقع بها قضاء بلا نية.
والحاصل: أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية ".
"مقاييس اللغة" (4/ 428):
" (غضب) الغين والضاد والباء أصل صحيح يدل على شدة وقوة. يقال: إن الغضبة: الصخرة الصلبة. قالوا: ومنه اشتق الغضب؛ لأنه اشتداد السخط."
"مختار الصحاح "(ص: 144):
"(السخط) بفتحتين و (السخط) بوزن القفل ضد الرضا، وقد (سخط) أي غضب".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
11/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


