03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصب شدہ کاروبارکی تلافی کا حکم
86219خرید و فروخت کے احکاماموال خبیثہ کے احکام

سوال

سن 1999 میں میرا ایک کاروبار تھا ،جس میں میرے0 015000 روپے لگے ہوئے تھے اور دکان کرائے پرتھی، میرا بہنوئی وہاں میرے پاس ملازم تھا، اس نے دھوکے سے دکان کے مالک کو مجھ سے لڑا کر مجھے وہاں سے نکال دیا اور میرے کاروبار پر قبضہ کر لیا،جب میں نے اپنے بہنوئی کے والدین سے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنی  چار بہنوں کی شادی اس گھر میں کرائی ہے  ،  اگر آپ کچھ کریں گے تو آپ کی بہنوں کا گھر خراب ہوگا، لہٰذا  سب کی رضامندی سے اس بات پر  فیصلہ ہوا کہ جو زمین  میری چار بہنوں کے حصہ میں آئے گی وہ میں اپنی بہنوں کو نہیں دوں گا،میری بہنیں بھی اس بات پر راضی تھیں اور انہوں نے اپنی زمین میرے نام کردی  ،نقصان برداشت کرنے کے باوجود میں نے یہ فیصلہ قبول کیااور یہ معاملہ ایسا ہی رہا۔ اور اس وقت میرے والد صاحب بھی حیات تھے اور 2012  میں اس کا انتقال ہوا، اور اس سے پہلے میری دو بہنو ں کا بھی  انتقال ہو چکا تھا، اب میری دو بہنیں حیات ہیں وہ کہتی ہیں جایئداد تم لے لو اور میرے  بہنوئی لالچ میں آ کر زمین واپس مانگ رہے ہیں، اور مجھے صرف میرے کاروبار کی اصل رقم (1500000روپے) واپس دے رہےہیں ، حالانکہ تب سے اب تک کاروبار بہت بڑھ چکا ہے۔براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کے  میراث کوحصہ داروں میں تقسیم کرنا شریعت کا حکم ہے، جس پر عمل  ضروری اور لازمی ہے،اس لیے شرعا بہنوں سمیت سب ورثاء کو ان کا مقرر کردہ حصہ دینا ضروری ہے۔زورزبردستی یا دباؤ کے ذریعہ کسی وارث کو اپنا حصہ ء میراث نہ لینے یا دوسرے ورثاء کو  دینے پر مجبور کرنا شرعاً سخت ناجائز اور سراسر ظلم ہے۔ البتہ اگر بہنیں یا کوئی اور وارث کسی دباؤ میں آئے بغیر، واقعی دلی رضامندی کے ساتھ اپنا حصہ دوسرے سب ورثاء یا کسی خاص وارث کوکسی عوض کے بدلے چھوڑدیں تو یہ جائز ہے،   بغیر عوض  کے  دینا چاہے تو شرعا اس کی بھی گنجائش ہے ,لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ذیل میں مذکور  شرائط کو ملحوظ رکھا جاۓ:

۱۔متعلقہ جائیداد یا مال شرعی طور پر وارث کے قبضے میں آ چکا ہو۔

۲۔ قبضہ کے  بعد وارث اپنی خوشی و رضامندی سے اپنا حصہ گفٹ کرے ، اس میں کسی  قسم دباؤ کا  دخل  نہ ہو  ۔

۳۔   مورث کی وفات کے وقت وارث زندہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں   فیصلے کے وقت والد صاحب حیات تھے،  اس لیۓ اس کی جائداد  میراث نہیں بنی  ہے، اور  والد صاحب  نے زندگی میں زمین ہبہ کرکے بھی  بہنوں کے قبضے میں  نہیں دی۔ لہذا  جب فیصلے کے وقت زمین  میں بہن بھائی کسی کا حصہ تھا ہی نہیں ، تو اس وقت بہن کی زمین کو    بھائی کے نام کرنے سے   بھائی کی ملکیت  ثابت نہیں ہوئی۔ لیکن چونکہ جب والد صاحب کا انتقال ہوا تو اُس وقت دو بہنیں پہلے ہی وفات پا چکی تھیں، اس لیے ان کا میراث میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، کیونکہ میراث زندہ ورثا ء کے درمیان تقسیم ہوتی ہے، لہذا مسؤلہ صورت میں   جو بھی میراث ہوگی وہ والد کی وفات کے وقت زندہ  ورثاء میں  تقسیم ہوگی ۔ اب جو دو بہنیں حیات ہیں اور اپنی زمین بھائی کے نام کرنے پر راضی بھی ہیں، تو ان کا حصہ الگ کیا جائے، ان کے حصے کو ان کے قبضے میں دیا جائے، اور ان  کو  مکمل اختیار دیا جائے،اس کے بعد  اگر یہ  بہنیں اپنی خوشی اور رضامندی سے، بغیر کسی دباؤ کے، اپنا حصہ چھوڑ دیں تو اس صورت میں بھائی گناہگار نہیں ہو گا ،اس طرح  بھی بھائی زمین لے سکتا ہے۔ اور اس طرح بھی کہ بہنوں کو تقسیم سے پہلے  ہی ان کے حصہ کا کوئی عوض دیدے اور اس کے بدلے بہنیں اپنی جائدا د سے دستبردار ہوجائیں۔

 آپ کے بہنوئی پر شرعی طور پر لازم ہے کہ وہ کاروبار کی اُس وقت کی مالیت آپ کو ادا کریں جو آپ کےقول کےمطابق  ((1500000روپے ہیں ، تاہم کاروبار میں ہونے والی اضافی بڑھوتری کی ادائیگی ان پر لازم نہیں ہے ۔

حوالہ جات

[النساء: 11]:

قال اللہ تعالیٰ:{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (11}

سنن أبي داود (3/ 171):

"عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ألا من ظلم معاهدا، أو انتقصه، أو كلفه فوق طاقته، أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس، فأنا حجيجه يوم القيامة»"

تكملة حاشية ابن عابدين = قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار ط الفكر(8/ 208):

ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي ‌لا ‌يصح وهو على حقه، لان ‌الارث ‌جبري ‌لا ‌يصح تركه .

تكملة حاشية ابن عابدين = قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار ط الفكر (8/ 116):

‌الارث ‌جبري ‌لا ‌يسقط بالاسقاط۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي(5/ 49):

قال رحمه الله (وإن أخرجت الورثةأحدهم عن عرض أو عقار بمال، أو عن ذهب بفضة، أو بالعكس) أي عن فضة بذهب (صح قل، أو كثر) يعني قل ما أعطوه أو كثر؛ لأنه يحمل على المبادلة؛ لأنه صلح عن عين ولا يمكن حمله على الإبراء إذ لا دين عليهم ولا يتصور الإبراء عن العين، وبيع العقار والعروض بالقليل والكثير جائز، وكذا بيع الذهب بالفضة لعدم الربا لاختلاف الجنس

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 758):

والمراد بالفرائض السهام المقدرة كما مر فيدخل فيه العصبات، وذو الرحم لأن سهامهم مقدرة وإن كانت بتقدير غير صريح.

، وموضوعه: التركات، وغايته: إيصال الحقوق لأربابها، وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: ‌موت ‌مورث ‌حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا ‌حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه، وأسبابه

فقہ البیوع(21042/)

ومذهب الحنفية أن الغاصب بعد أداء الضمان يملك المغصوب ملكاً مستنداً إلى وقت الغصب، وليس عليه رد الغلة أو الربح على المغصوب منه۔

تكملة فتح القدير نتائج الأفكار في كشف الرموز والأسرار» (9/ 318):

فف  قال (ومن غصب شيئا له مثل كالمكيل والموزون فهلك في يده فعليه مثله) وفي بعض النسخ: فعليه ضمان مثله، ولا تفاوت بينهما، وهذا لأن الواجب هو المثل لقوله تعالى {فمن اعتدى عليكم فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم»…… قال (وما لا مثل له فعليه قيمته يوم غصبه) معناه العدديات المتفاوتة،….. قال (وعلى الغاصب رد العين المغصوبة) معناه ما دام قائما

جمیل الرحمن

دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

06/رجب 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمن بن عبدالودود

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب