| 86495 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیالڑکی والوں کو لڑکے والے اس بات پرمجبورکرسکتے ہیں کہ لڑکی کانکاح اسی لڑکے سے کریں جس سے منگنی کی ہوئی تھی،جبکہ لڑکی نے انکارکردیا ہے،نیزکیااس کوعزت اورغیرت کامسئلہ بنانادرست ہے یانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام نکاح میں یک طرفہ رضامندی اور پسند کاحکم نہیں دیتا، بلکہ دونوں کی رضا مندی اور پسند کے ساتھ نکاح کاحکم دیتاہے، جس طرح مردوں کو پسند کی عورتوں سے شادی کرنے کا حکم ہے اسی طرح قرآن اور احادیث مبارکہ میں لڑکی کی پسندکابھی احترام کیاگیاہے اوراسی وجہ سے نکاح کے صحیح ہونے کے لئے عاقلہ بالغہ لڑکی کی اجازت کوضروری قراردیاہے ،اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں:
اورجب تم نے عورتوں کوطلاق دےدی ہواوروہ اپنی عدت کوپہنچ جائیں انہیں اس بات سے منع نہ کروکہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں،بشرطیکہ وہ بھلائی کے ساتھ ایک دوسرے سے راضی ہوگئے ہوں۔
(سورۃبقرۃ،آیت نمبر:153)
مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیرمیں لکھتے ہیں:ان الفاظ سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ عاقلہ بالغہ لڑکی کانکاح بغیراس کی رضایااجازت کے نہیں ہوسکتا۔(معارف القرآن:576/1)
نکاح کے لئے لڑکی کی اجازت ضروری ہے،ذیل میں چنداحادیث لکھی جاتی ہیں:
1.حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور کنوای لڑکی کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، لوگوں نے عرض کیا: یاسول اللہ ! کنواری کی اجازت کیسے معلوم ہوتی ہے؟ فرمایا: اگر پوچھنے پر وہ خاموش ہوجائے تو یہ بھی اجازت ہے۔
2.حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میرے چچا زاد بھائی نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ،لیکن میرے والد نے اس رشتے کو رد کر دیا اور میری شادی ایسی جگہ کرادی جہاں مجھے پسند نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے والد کو بلایا اور اس سے اس کےبارے میں سوال کیا، اس نے کہا کہ میں نے اس کا نکاح کرایا ہے اور اس کے لئے خیر کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تیرا نکاح نہیں ہوا، جاؤ اور جس سے چاہو نکاح کر لو۔
نیزاس سےمقصدِ نکاح بھی فوت ہو جاتا ہے ،کیونکہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت کی بجائے نفرت کریں گے تو زندگی عذاب بن کر رہ جائے گی اور جب جوڑا ایک دوسرے سے سکون نہیں پائے گا تو نکاح بے مقصد ہو جائے گا۔
اس لئے امام ابوحنیفہ،ابوسفیان ثوری،اوزاعی،ابوثور رحمہم اللہ نے عاقلہ بالغہ لڑکی کی اجازت کونکاح کے صحیح ہونے کے لئے ضروری قراردیاہے،امام احمدرحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی کے مطابق ہے اوربعض متاخرین حنابلہ نے اس کواقوی قراردیاہے۔
صورت مسؤلہ میں اگرلڑکی راضی نہیں ہے تواس کوغیرت کامسئلہ بناکرلڑکی کو یالڑکی کے والدین کوزبردستی نکاح پرمجبورکرناجائزنہیں،اگرلڑکی نے صاف طورپرنکاح سے انکارکردیا تواس صورت میں نکاح منعقد ہی نہیں ہوگااوراگروہ بادل نخواستہ قبول کرلے نکاح توہوجائے گا،لیکن اس طرح کرناجائزنہیں۔
حوالہ جات
فی صحيح البخاري (ج 9 / ص 25):
عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تنكح البكر حتى تستأذن ولا الثيب حتى تستأمر فقيل: يا رسول الله! كيف إذنها؟ قال: إذا سكتت۔
وفی مصنف عبدالرزاق لأبو بكر الصنعاني (ج 6 / ص 147(:
أخبرنا عبد الرزاق قال: أخبرنا بن جريج قال: أخبرني أبو الزبير عن رجل صالح من أهل المدينة عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال :كانت امرأة من الأنصار تحت رجل من الأنصار ،فقتل عنها يوم أحد وله منها ولد ،فخطبها عم ولدها ورجل إلى أبيها ،فأنكح الرجل وترك عم ولدها، فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت: أنكحني أبي رجلا لا أريده ،وترك عم ولدي فيؤخذ مني ولدي، فدعا النبي صلى الله عليه و سلم أباها فقال: أنكحت فلانا فلانة قال: نعم، قال: أنت الذي لا نكاح لك ،اذهبي فانكحي عم ولدك۔
وفی الفتاوى الهندية (ج 7 / ص 40):
لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته ؛ جاز ، وإن ردته بطل۔
وفی فتح الباري - ابن حجر - (ج 9 / ص 193):
واختلفوا في الأب يزوج البكر البالغ بغير أذنها فقال الأوزاعي والثوري والحنفية ووافقهم أبو ثور يشترط استئذانها، فلو عقد عليها بغير استئذان لم يصح، وقال الآخرون: يجوز للأب أن يزوجها ولو كانت بالغا بغير استئذان وهو قول بن أبي ليلى ومالك والليث والشافعي وأحمد وإسحاق۔
وفی الإنصاف (ج 12 / ص 258):
البكر التي لها تسع سنين فأزيد ، إلى ما قبل البلوغ : له تزويجها بغير إذنها .على الصحيح من المذهب .
وعليه جماهير الأصحاب .وقطع به الخرقي .والمصنف في العمدة ، وصاحب الوجيز ، وغيرهم وقدمه في المغني ، والشرح ، وقالا : هذا المشهور .وقدمه أيضا في النظم ، والرعايتين ، والحاوي الصغير .والفروع ، والفائق ، وغيرهم .وعنه : لا يجوز تزويج ابنة تسع سنين إلا بإذنها .قال الشريف أبو جعفر : هو المنصوص عن الإمام أحمد رحمه الله .قال الزركشي : وهي أظهر۔۔.واختار أبو بكر ، والشيخ تقي الدين رحمهما الله : عدم إجبار بنت تسع سنين بكرا كانت أو ثيبا .قال في رواية عبد الله : إذا بلغت الجارية تسع سنين فلا يزوجها أبوها ولا غيره إلا بإذنها .قال بعض المتأخرين من الأصحاب : وهو الأقوى .
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۹/رجب ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


