| 86494 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
اگرکسی لڑکی کی منگنی کسی عذر یالڑکی کے انکارکی وجہ سے ختم کی جائے توجرگہ کی طرف سے لڑکی والوں پرمالی جرمانہ عائدکیاجاسکتاہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
منگنی ایک وعدہ ہے اوروعدہ کی پابندی عمومی حالت میں لازم ہے،بغیرکسی معقول وجہ کے خلاف ورزی کوحدیث میں منافق کی علامت کہاگیاہے،صورت مسؤلہ میں اگروعدہ کرتے وقت وعدہ پرعمل کرنے کاپوراارادہ تھا،لیکن اب کسی معقول عذرکی وجہ سے منگنی ختم کی جارہی ہے جیسے لڑکی اس لڑکے سے نکاح پرراضی نہیں تواس صورت میں منگنی ختم کرنے کی گنجائش ہے،اوراس پرمالی جرمانہ عائدکرنادرست نہیں ،البتہ اگرلڑکے والوں نے منگنی کے موقع پر یا بعد میں کسی وقت اگر کوئی چیزلڑکی کو مہر کے طورپردی تھی تو لڑکے والے اسے واپس لے سکتے ہیں، اگر وہ چیز باقی نہیں ہے ، بلکہ استعمال ہو کر ختم ہوگئی ہے تو اس کا بدل لے سکتے ہیں اگر وہ چیزیں ہبہ کے طورپر دی گئی ہیں تو ان میں سے جو استعمال ہوکر ختم ہوگئیں وہ تو ختم ہوگئیں ، البتہ جو چیزیں باقی ہوں انہیں دونوں فریق باہمی رضامندی سے ایک دوسرے سے واپس لے سکتے ہیں ، اگر کوئی فریق دینے پر آمادہ نہ ہو تو دوسرا جبرنہیں کرسکتا ۔
حوالہ جات
فی مرقاة المفاتيح (ج 14 / ص 150):
إذا وعد الرجل أخاه، ومن نيته أن يفي۔ بفتح فكسر، وأصله أن يوفي له أي للرجل۔ فلم يف أي بعذر، ولم يجىء للميعاد أي لمانع فلا إثم عليه قال الأشرف :هذا دليل على أن النية الصالحة يثاب الرجل عليها وإن لم يقترن معها المنوي وتخلف عنها، ومفهومه أن من وعد وليس من نيته أن يفي فعليه الإثم سواء وفى به أو لم يف فإنه من أخلاق المنافقين۔
وفی رد المحتار (ج 10 / ص 158):
( خطب بنت رجل وبعث إليها أشياء ولم يزوجها أبوها فما بعث للمهر يسترد عينه قائما ) فقط وإن تغير بالاستعمال ( أو قيمته هالكا ) لأنه معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد ( وكذا ) يسترد ( ما بعث هدية وهو قائم دون الهالك والمستهلك ) لأنه في معنى الهبة .
( قوله ولم يزوجها أبوها ) مثله ما إذا أبت وهي كبيرة ط ( قوله فما بعث للمهر ) أي مما اتفقا على أنه من المهر أو كان القول له فيه على ما تقدم بيانه ( قوله فقط ) قيد في عينه لا في قائما ، واحترز به عما إذا تغير بالاستعمال كما أشار إليه الشارح .
قال في المنح: لأنه مسلط عليه من قبل المالك فلا يلزم في مقابلة ما انتقص باستعماله شيء ( قوله أو قيمته ) الأولى أو بدلا له ليشمل المسمى ( قوله لأنه في معنى الهبة ) أي والهلاك والاستهلاك مانع من الرجوع بها ، وعبارة البزازية :لأنه هبة ،ومقتضاه أنه يشترط في استرداد القائم القضاء أو الرضا ، وكذا يشترط عدم ما يمنع من الرجوع ، كما لو كان ثوبا فصبغته أو خالطته ، ولم أر من صرح بشيء من غير ذلك فليرجع۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۹/رجب ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


