| 86721 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ واپس کرنے کابیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ بخش نے اپنی زندگی میں اپنی بیٹیوں سے کہا تھا کہ آپ اپنی جائیداد کے بارے میں کیا کریں گی؟ جواباً سب بیٹیوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے بھائی کو ہبہ کریں گی، ہم زمین نہیں لیں گی۔ اللہ بخش کے انتقال کے بعد سب بیٹیوں نے، اپنے وعدے پر پورا اترتے ہوئے، بخوشی ورضا تقسیم سے پہلے اپنے بھائی محمد رمضان ولد اللہ بخش کو زمین ہبہ کر دی اور انتقال بھی دے دیا۔ اب 40 سال بعد ایک بہن جس کا نام (نسرین بی بی) ہے وہ اس کا انکار کرتی ہے کہ میں نے زمین ہبہ نہیں کی تھی جبکہ اس کی دوسری بہنوں اور ایک مرد نے حلفا دو عدالتوں کے روبرو یہ گواہی دی ہے کہ نسرین بی بی نے اپنی زمین اپنے بھائی کو ہبہ کی تھی اور اس پر انتقال بھی دیا تھا۔عدالت نے ان گواہوں کی گواہی کی وجہ سے بھائی کے حق میں فیصلہ کر دیا اور اینٹی کرپشن ادارے نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی کہ یہ انگوٹھے نسرین بی بی کے ہیں ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے بہن کا اپنے بھائی کو زمین ہبہ کرنا شرعا درست ہے یا نہیں؟اگر شرعا یہ ہبہ درست ہو چکا ہے، تو کیا اس بہن کے لیے اب بھائی سے یہ زمین واپس لینا درست ہے کہ نہیں؟ بینو توجرو
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں عدالتی فیصلہ درست ہے اور یہ ہبہ مکمل ہوچکا ہے۔ اسی طرح نسرین بی بی نے یہ ہبہ چونکہ اپنے بھائی کو کیا ہے،جو کہ محرم رشتہ داروں میں سے ہے، لہذا نسرین بی بی اب ہبہ سے رجوع کا اختیار بھی نہیں رکھتی۔
حوالہ جات
اصول الافتاء و آدابہ لشیخ مفتی تقی العثمانی:ص 263
إذا ولى الإمام قاضياً ، ولم يقيده بمذهب بعينه، وكان القاضي مجتهداً، فقضى بما خالف مذهبه ، نفذ قضاؤه ما دامت المسألة مجتهداً فيها ، فلو سئل المفتي أجاب بنفاذ قضائه ولو كان القضاء خلاف مذهبه، فهي الصورة الثالثة من الصور التي يُفتي فيها المفتي بغير مذهبه. وذلك لما اتفق عليه الفقهاء من أن حُكم الحاكم أو قضاء القاضي رافع للخلاف .
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 119):
(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم كالعبد والحمام والدن ونحوها وهذا عندنا وعند الشافعي رحمه الله ليس بشرط وتجوز هبة المشاع فيما يقسم وفيما لا يقسم عنده واحتج بظاهر قوله عز وجل {فنصف ما فرضتم إلا أن يعفون} [البقرة: 237] أوجب سبحانه وتعالى نصف المفروض في الطلاق قبل الدخول إلا أن يوجد الحط من الزوجات عن النصف من غير فصل بين العين والدين والمشاع والمقسوم فيدل على جواز هبة المشاع في الجملة وبما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه لما شدد في الغلول في الغنيمة في بعض الغزوات فقام عليه الصلاة والسلام إلى سنام بعير وأخذ منه وبرة ثم قال «أما إني لا يحل لي من غنيمتكم ولو بمثل هذه الوبرة إلا الخمس والخمس مردود فيكم ردوا الخيط والمخيط فإن الغلول عار وشنار على صاحبه إلى يوم القيامة فجاء أعرابي بكبة من شعر فقال أخذتها لأصلح بها بردعة بعيري يا رسول الله فقال أما نصيبي فهو لك وسأسلمك الباقي وهذا هبة المشاع فيما يقسم۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 226):
قال: وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها"؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل۔۔۔ وإذا وهب هبة لأجنبي فله الرجوع فيها وقال الشافعي: لا رجوع فيها لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا يرجع الواهب في هبته إلا الوالد فيما يهب لولده ۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
28/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


