03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رشوت دے کر ملازمت حاصل کرنے کا حکم
86623جائز و ناجائزامور کا بیانرشوت کا بیان

سوال

آج کے دور میں، جب جائز ذرائع سے ملازمت نہ مل رہی ہو، تو کیا مجبوراً رشوت دے کر ملازمت حاصل کی جا سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نوکری حاصل کرنے کے لیے رقم دینے میں درج ذیل تفصیل ہے:      

۱۔اہلیت اور قابلیت نہ ہونے کےباوجودرقم دے کرنوکری حاصل کرناناجائز اوررشوت  ہے، باقی صرف تحریری ٹیسٹ یاانٹرو ویو دینا کافی نہیں، بلکہ ضابطہ کے مطابق اس میں کامیابی بھی شرط ہے۔

۲۔اگرقابلیت ہو،لیکن ناجائز اور امتیازی سلوک سے بچنے کے لیےیاکم ازکم مساویانہ اور منصفانہ سلوک کی تحصیل کےلیےرقم دی جائے تو دینےکی گنجائش ہے،البتہ رشوت  لینا پہلی اوردوسری دونوں صورتوں میں ناجائز ہے، جس کے جواز کی کوئی صورت ممکن نہیں۔

۳۔نوکری حاصل کرنےمیں صرف ترجیح حاصل کرنے کے لیے  رقم دینا بھی رشوت کے زمرے میں داخل اور ناجائزہے۔(فھذا داخل فی قاعدۃ ان الضرر الخاص یتحمل لدفع الضرر العام کما فی احسن الفتاوی: ج۸،ص  ٩٨)

اگر ناجائز طریقہ سے رشوت دے کر ملازمت حاصل کی جائے تو ایسی صورت میں اگر متعلقہ کام بخوبی سرانجام دینےکی صلاحیت موجودہواور عملا کام بھی پورا کرے تو تنخواہ لیناجائزہے،(لیکن کراہت سےبہرحال خالی نہیں)۔(احسن الفتاوی:ج۸ ص۱۹۸) ۔(ماخوذ از تبویب: 80802)

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 362):

 في الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.

الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.

الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ...الخ.

الرابع: مايدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب، اهـ ما في الفتح ملخصا.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

25/ رجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب