| 85231 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
اسلامی وراثت میں مسلمان باپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ وراثت اس مال میں جاری ہوتی ہے جو کسی شخص کی وفات کے وقت اس کی ملکیت میں موجود ہو،اس لئے اسے شریعت کے مطابق تقسیم کرنا تمام ورثا کی مشترکہ ذمہ داری ہے،اگر ورثا اس کی شریعت کے مطابق تقسیم کرنے میں کوتاہی سے کام لیں گے تو اس کے والد ذمہ دار نہیں ہوں گے،کیونکہ وہ تو فوت ہوچکے ہیں۔
تاہم اگر کوئی والد زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہو تو اس کو چاہیے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر حصہ دے،کیونکہ زندگی میں اپنی جائیدادمیں سے اولاد کو کچھ دینا ہبہ کے حکم میں ہے اور عام حالات میں اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری مستحب ہے ،یعنی سب کو ،چاہے لڑکا ہو یا لڑکی برابر حصہ دیا جائے، بغیر کسی معقول وجہ ترجیح کے، محض نقصان پہنچانے کی غرض سے بعض کو کم اور بعض کو زیادہ دینا درست نہیں،البتہ اگرکمی بیشی کی کوئی معقول وجہ ہو،جیسےاولاد میں سے کسی کا زیادہ تنگدست ہونا، زیادہ عیالدار ہونا،بعض کا خدمت گار ہونا اور بعض کا نافرمان ہوناوغیرہ توایسی صورت میں جو زیادہ تنگدست،عیالدار یا خدمت گار ہو اسے زیادہ دیا جاسکتا ہے،لیکن کسی کو بالکل محروم کردینا جائز نہیں۔
نیز ہبہ کے تام ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جو چیز جسے ہبہ کی جائے اس کے قبضے میں بھی دے دی جائے اور اگر ایک سے زیادہ لوگوں کو کوئی ایسی چیز ہبہ کی جائے جو تقسیم کے قابل ہو تو اسے باقاعدہ تقسیم کرکے دیا جائے،قبضہ دیئے بغیر محض کسی کے نام کروانے یا تقسیم کے بغیر مشترکہ طور پر ہبہ کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوتا اور ہبہ کی گئی چیز ہبہ کرنے والے کی ملکیت میں بدستور باقی رہتی ہے۔
حوالہ جات
"البحر الرائق "(ج 20 / ص 110):
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط".
"البزازیہ علی ھامش الہندیۃ"(6/237):
"الافضل فی ھبۃ الابن والبنت التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھوالمختار،ولو وھب جمیع مالہ من ابنہ جاز ،و ھو آثم ، نص علیہ محمد ،ولو خص بعض اولادہ لزیادۃ رشدہ لاباس بہ ،وان کانا سواءلایفعلہ".
"الدر المختار للحصفكي ": (ج 5 / ص 265) :
وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
29/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


