03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جوائنٹ فیملی میں ذاتی کمائی سے خریدی گئی زمین کا حکم
85230ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرے سب سے چھوٹے بھائی ہانی نے مجھے پشاور میں ایک زمین کے بارے میں بتایا،میں نے اسے پیسے بھیجے،اس نے اسے خریدا اور اپنے نام کروالی،اب وہ یہ دعوی کررہا ہے کہ اس زمین کی ملکیت میں اس کا بھی حق ہے،کیا اس کا اس زمین میں کوئی حق بنتا ہے؟

تنقیح:سائل کی وضاحت کے مطابق اس نے اس زمین کو اپنی ذاتی کمائی سے خریدا تھا،مشترکہ کمائی سے نہیں خریدا تھا،لیکن جوائنٹ فیملی ہونے کی وجہ سے اس کی  اسے ذاتی ملکیت میں شامل کرنے کی نیت نہیں تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ یہ زمین آپ نے اپنی ذاتی کمائی سے خریدی تھی،اس لئے اس زمین کے مالک آپ ہوں گے،چھوٹے بھائی کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (6/ 463):

"اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك، فلو استولى في مفازة على حطب غيره لم يملكه ولم يحل للمقلش ما يجده بلا تعريف، وتمام التفريع في المطولات".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

29/ربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب