03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلاف شرع امور میں والدین کی اطاعت کا حکم
86341جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرے والدین ڈاڑھی کاٹنے پر زور دیتے ہیں،دیوبند کو غلط مسلک قرار دیتے ہیں اور مجھے بھی بریلوی مسلک اپنانے پر زور دیتے ہیں،جن میں میرے والدین کے بعض عقائد شرکیہ بھی ہیں،اگر میں ان باتوں میں والدین کی نافرمانی کرتا ہوں تو کیا گناہ ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلاف شریعت امور میں والدین کی اطاعت جائز نہیں ہے،چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں :

{وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [العنكبوت: 8]

ترجمہ :اور ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اگر وہ تم پر زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی ایسے معبود کو شریک ٹھہراؤ جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کا کہنا مت مانو۔میری ہی طرف تم سب کو لوٹ کر آنا ہے،اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک کا مفہوم ہے کہ مخلوق کو راضی کرنے کے لئے خالق کی نافرمانی جائز نہیں ہے۔

اس لئے سوال میں ذکر کی گئی باتوں میں آپ کے لئے والدین کی اطاعت جائز نہیں ہے اور اس کی وجہ سے آپ کو کوئی گناہ نہیں ہوگا،بلکہ اطاعت کی صورت میں گناہ گار ہوں گے،البتہ آپ پر لازم ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آئیں۔

حوالہ جات

"مرقاة المفاتيح " (6/ 2393):

"(وعن علي رضي ﷲ عنه قال: قال رسول ﷲ صلى ﷲ عليه وسلم: لا طاعة) أي لأحد كما في رواية الجامع الصغير أي من الإمام وغيره كالوالد والشيخ (في معصية) وفي رواية الجامع: في معصية ﷲ (إنما الطاعة في المعروف) أي ما لا ينكره الشرع (متفق عليه) ورواه أبو داود وابن ماجه".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب