| 87412 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
ایک دن گھر یلو بحث کے درمیان 2 سال پہلے میرے شوہر نے مجھے دو دفعہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور اس کے ساتھ کئی بار کہا کہ میں تمہیں چھوڑتا ہوں ، آزاد کرتا ہوں۔ فارغ کرتا ہوں وغیرہ۔
مگر میں اس اطمینان کیساتھ رہی کہ ابھی تو دو دفعہ کہا ہے لہذا میں نکاح میں ہوں ،اس کے بعد دو سال تک ہمارے درمیان میاں بیوی جیسے تعلقات نہیں رہے ،کھانا ،پینا، سونا سب الگ تھا اور ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرتے تھے۔
مگر اس رمضان کے آخری عشرے میں دو سال کے بعد دوبارہ انہوں نے مجھے لگاتار دو دفعہ طلاق دیتا ہوں کہا اور ساتھ ہی اس بات کا صاف صاف کھل کر اعتراف کیا کہ میں تمہیں پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں اور آج بھی دے رہا ہوں اور 8-7 بار کہا تم آزاد ہو۔ میں تمھیں چھوڑتا ہوں، آزاد کرتا ہوں۔
میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ وہ مجھے طلاق دے چکے ہیں اعتراف کر رہے ہیں اور چار بار طلاق کے الفاظ بھی استعمال کر چکے ہیں اور باقی کئی بار ا نہوں نے طلاق کے الفاظ تو استعمال نہیں کئے مگر ارادہ صاف طلاق ہی دینے کا ہوتا تھا کہ میں تمھیں چھوڑتا ہوں ، آزاد کرتا ہوں ۔
میرے لئے شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے توشوہر کا دو طلاقوں کے بعد یہ الفاظ کہنا کہ تمہیں چھوڑتا ہوں اس سےبیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے۔اب نہ رجوع ہو سکتا ہے، نہ دونوں کا آپس میں دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔لہذا دو سال پہلےشوہر کے یہ الفاظ کہنے کے بعد سے تین ماہواریاں گزرنے پر آپ کی عدت گزرچکی ہے، اب آپ کہیں اور نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں۔ خاتون کے لیے طلاق کے بعد عدت گزرنے تک شوہر کے گھر میں رہنا شرعا درست ہے؛ کیونکہ عدت شوہر کے گھر میں گزارنا لازم ہے، البتہ اس دوران اس سے پردہ کرنااور دور رہنا ضروری ہے، لیکن عدت مکمل ہونے کے بعد سابق شوہر کے ساتھ گھر میں رہنا جائز نہیں۔ چونکہ آپ کی عدت مکمل ہوگئی ہے ،لہذااب آپ کے لیے یہاں ٹھہرنا جائز نہیں، بلکہ فوری طور پر والدین یا کسی محرم رشتہ دار کے گھر منتقل ہونا لازم ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار (3/ 299):
إن "سرحتك" كناية، لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت.
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (2/ 197):
«(باب الطلاق) الطلاق ضربان صريح وكناية فالصريح ما ظهر المراد منه ظهورا بينا حتى صار مكشوف المراد بحيث يسبق إلى فهم السامع بمجرد السماع حقيقة كان أو مجازا ومنه الصرح للقصر لظهوره قال رحمه الله (الصريح هو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك) لأن هذه الألفاظ يراد بها الطلاق وتستعمل فيه لا في غيره فكانت صريحا قال رحمه الله (وتقع واحدة رجعية) لقوله تعالى {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229] فأثبت الرجعة بعد الطلاق الصريح،»
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
10/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


