| 86569 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
اپنے ایک ذاتی مسئلہ پر آپ سے مشورہ اور راہنمائی درکار ہے اور وہ یہ کہ میری مرحوم والدہ نے میرے پاس ایک کروڑ ستر لاکھ روپے رکھوائے تھے،باقی سب بہن بھائیوں کو کچھ گھریلو وجوہات کی وجہ سے صحیح رقم بتانے سے سختی سے منع کیا تھا، کچھ عرصہ پہلے انہوں نے مجھے اس میں سے پچاس لاکھ علیٰحدہ کرکے کہا کہ یہ تمہارے ہیں اور ان کی خاص تاکید تھی کہ کسی اور بہن بھائی کو نہیں بتایا جائے اور نہ وہ کسی کو گواہ بنانے پر راضی تھیں،اس لیے اس رقم کا کوئی گواہ نہیں ہے،پچاس لاکھ روپے علیٰحدہ کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ اس سے جو منافع آتا ہے اس سے میرا خرچہ چلا لیا کرو،وہ کچھ عرصے سے میرے پاس رہتی تھیں،خاص طورجب بیمار ہوتی تھیں۔ان کی وفات کے بعد میرے ذہن میں سوال ہے کہ کیا اس رقم کے حوالے سے مجھے اپنے بہن بھائیوں کو بتانا لازم ہے؟ اور کیا یہ رقم میرے لئے حلال ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ والدہ کی خدمت اور علاج معالجے کا خیال رکھنے کی وجہ سے انہوں نے بقیہ اولاد کو چھوڑ کر آپ کو یہ رقم ہبہ کی تھی،اس لئے یہ رقم آپ کی ملکیت بن چکی ہے،آپ کے ذمے اس کے حوالے سے بقیہ ورثا کو آگاہ کرنا ضروری نہیں ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (5/ 687):
"(وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير ورقيق، ولو مكاتبا.
(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.
(وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء. (وحكمها ثبوت الملك للموهوب له)".
"الدر المختار للحصفكي ": (ج 5 / ص 265) :
وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة ؛لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
25/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


